(محبت ہوگئ آخر ) از یمنیٰ طلحہٰ قسط نمبر 5 @YUMNA_TALHA_WRITES

یہاں لائبہ نے ایک طرف فون  بند کر کے نگہت کو دیکھا جن کے چہرے پر سمیہ کے لیے ترس تھا۔ یہ ان کے لیے نئ بات نہ تھی سمیہ اکثر رات کو یوں کہہ کر آجایا کرتی تھی۔ اپنے گھر میں جب بھی اسے گھٹن محسوس ہوتی لائبہ کا گھر، اس کی بہنیں، امی ابو سمیہ کے لیے رحمت ہوتے تھے۔ وہ وہاں آکر خوب مزے کرتی خوب پیار سمیٹتی اور اندر تک سکون محسوس کرتی

تھی۔

“میں تمہارے بغیر کیسے دن گزاروں گی یونیورسٹی میں سمیہ”، لائبہ نے تفکر امیز انداز میں کہا۔

“یہ ہی تو مجھے بھی ٹینشن ہے پتہ نہیں کیا ہوگا۔ حالانکہ میں نے کہا بھی تھا ہم دونوں کی کلاسز ایک ہی رکھیں پھر بھی تمہیں مجھ سے الگ کردیا۔ ناانصافی ہے۔ میں ایڈمن جاؤں گی اور بات کروں گی”، سمیہ نے حتمی انداز میں کہا۔ وہ دونوں چلتی ہوئی بینچ پر آ بیٹھیں تھیں۔ چھٹی کا وقت تھا اور طلبہ کا ایک ہجوم اس جگہ موجود تھا۔ بمشکل یہ خالی بینچ ملی تھی جس پر دونوں نے بیٹھنا غنیمت جانا۔

“ہاں ہاں تم بات کرنا اور دیکھو انکو منوا کر رہنا۔ کس طرح میں نے آج کا دن گزارا ہے تم سوچ نہیں سکو گی”، لائبہ نے کہا۔

“یار میرے ہاتھ میں کوئی کتاب تھی؟”، سمیہ نے ہاتھ میں پکڑے نوٹس میں ٹٹولتے ہوئے پوچھا۔

“نہیں تم جب نکلیں تھیں تب تو صرف نوٹس ہی دکھے تھے کیوں؟”،

“اوہ نو! میں کتاب کلاس میں ہی بھول گئ۔ تم یہیں رکو میں بس دو منٹ میں لائی”، وہ کہہ کر اٹھی تھی کہ لائبہ نے اس کا ہاتھ پکڑ کر روکا۔

“میں بھی ساتھ چلتی ہوں یہاں اکیلی کیا کروں گی سنا ہے بہت بری ریگنگ ہو رہی ہے یونیورسٹی میں”، لائبہ پر ڈر غالب ہؤا۔

“ارے نہیں تم بھی اٹھ جاؤ گی تو جو بمشکل جگہ ملی تھی وہ بھی ہاتھ سے جائے گی۔ تم بیٹھو میں دو منٹ میں آئی فکر مت کرو ایسے ایکٹ کرو جیسے تم سینئر ہو فریشی نہیں اوکے”، سمیہ کہہ کر  وہاں سے تیزی سے چلی گئ جبکہ لائبہ سہمی ہوئی وہیں بیٹھی رہی۔ اس نے ارد گرد کا جائیزہ لیا طلبہ کا ریلا تھا جو دائیں سے بائیں اور بائیں سے دائیں ہو رہا تھا۔ اس نے سر پر دوپٹہ ترتیب سے رکھا اور نظریں نیچے کر کے نوٹس دیکھنے لگی۔ اس سے بہتر اسے کچھ سجھائی نہ دیا تھا۔

ابھی چند منٹ ہی گزرے تھے کہ سورج کی شعائیں جو اس پر براہ راست پڑ رہی تھیں، مدھم ہوئیں۔ اسے سر پر سائے محسوس ہونے لگے تھے۔ جیسے ہی لائبہ نے آنکھیں اٹھائیں تو آواز حلق میں ہی گھٹ گئ۔

“اوہ شکر کتاب مل گئ”، کتاب وہیں موجود تھی جہاں سمیہ بیٹھی تھی۔ اس نے اٹھا کر پھرتی دکھائی، جانتی تھی لائبہ کا ڈر کر برا حال ہو رہا ہوگا۔ پر جوں ہی کلاس سے نکل رہی تھی اپنے استاد سے مڈ بھیڑ ہوگئ۔ اسکے استاد اس کے پاپا کے دوست بھی تھے۔ سر غضنفر اسے کلاس میں ہی پہچان گئے تھے لیکن الگ سے بلا کر کوئی بات نہ کی تھی اب اچانک سامنا ہؤا تھا تو وہ بھی رک گئ۔

“کیسی ہو سمیہ پاپا کیسے ہیں تمہارے؟”،

“آل گڈ سر آپ کیسے ہیں؟”، سمیہ نے مسکرا کر پوچھا۔

“میں بھی ٹھیک ہوں۔ خوشی ہوئی تمہیں یہاں دیکھ کر۔ تمہاری قابلیت کا اندازہ مجھے پہلے سے تھا۔ خوب محنت کرنا بچے”، سر نے کہا۔

“جی سر ضرور”،۔

“فریشی؟”، غالباً چار لڑکے اور دو لڑکیاں تھیں جو بھوت کی طرح اس پر غالب تھے۔ لائبہ دم سادھے انہیں دیکھ رہی تھی۔ پوچھنے پر بھی آواز گلے میں گھٹ چکی تھی۔

“چلو چلو کھڑی ہو جاؤ”، جواب نہ بھی دیتی تو بھی اسکی حالت بتا رہی تھی کہ وہ نئ طالب علم تھی۔ گروپ کے ایک لڑکے نے چٹکی بجا کر اس کو کھڑا ہونے کو کہا تو وہ ڈری سہمی بمشکل کھڑی ہوئی۔ ان چھ لوگوں نے اسے پورا گھیر لیا تھا۔

“نام بتاؤ پہلے اپنا بی بی”، ایک لڑکی نے کہا۔ ان سب کے چہرے ہیبت ناک لگ رہے تھے۔ لائبہ نے بمشکل خود کو سنبھالا ہؤا تھا۔

“ل لائبہ”، آواز تھی کہ نکلی ہی نہیں۔ لائبہ نے زیر لب کہا تھا پر قریب کھڑی ایک لڑکی نے سن لیا تھا۔

“تو لائبہ بی بی بات سنو اس یونیورسٹی کا ایک قانون ہے جو سب فولو کرتے ہیں اور تمہیں بھی کرنا ہوگا۔۔۔ بہت آسان ہے اپنی سریلی آواز میں قومی ترانہ سناؤ”، ایک لڑکے نے کہا اور لائبہ خجل سی ہوگئ۔

“چلو چلو سب لوگ خاموش ہو جاؤ لائبہ محترمہ اب ہمیں قومی ترانہ سنائیں گی چلو ون ٹو تھری گو”، سب کھڑے تالی بجانے لگے تھے۔ چہروں پر مضاحکہ خیز ہنسی تھی لائبہ کی ٹانگیں کانپنیں لگی تھیں۔ اسے شدت سے سمیہ یاد آئی وہ ہوتی  تو دو منٹ میں پورا نقشہ بدل دیتی۔ یہ چھ کے چھ لائبہ کو کسی عتاب سے کم نہ لگے تھے۔ ایک لحظہ ہی گزرا تھا اور متورم آنکھوں سے سیال بہہ نکلا۔

“سر ایک دو ٹاپکس پر آپ سے ڈسکس بھی کرنا تھا مجھے”، سمیہ سر غضنفر کے ساتھ بات کرتی باہر آئی تھی۔ وہ کافی موضوع پر باتیں کر رہے تھے جس میں سمیہ محو تھی اور اس چکر میں لائبہ کا خیال بھول گیا تھا اسے۔

“ارے وہ دیکھو وہاں کیا ہو رہا ہے وہاں چلو”، ایک لڑکے نے اپنے دوست کے کاندھے پر ہاتھ مار کر سامنے متوجہ کرایا۔

“لگتا ہے ارسلان نے فریشی گھیرا ہے چل سیف چلتے ہیں دیکھیں تو کیا سین ہے”،

“ابے ریگنگ کر رہا ہے وہ اسے معلوم نہیں سخت نوٹس جاری کیا ہے اگر پکڑا گیا تو نکال دیا جائے گا یونیورسٹی سے”، سیف کی نظر اس کے دوست کا تعاقب کرتی ہوئی وہیں ٹھہری تھی جہاں یہ چھ لوگ لائبہ کو گھیر کر کھڑے تھے۔

“ابے نہ کر”، دوست نے کہا۔

“اور نہیں تو کیا ورنہ میں تجھے ایسا خاموش بیٹھا نظر آتا؟ ابے وہ تو سر غضنفر ہیں نا؟”، سیف نے دوست سے پوچھا جس کی خود کی آنکھیں بھی سر کو دیکھ کر مزید پھٹ گئ تھیں۔

“گئے کام سے یہ لوگ چل انہیں وہاں سے ہٹانا ہے”، سیف اور اسکا دوست بھاگتے ہوئے ادھر آئے۔

“ابے کیا کر رہے ہو تم لوگ ایکسپیل ہو جاؤ گے وہ دیکھو سر غضنفر۔۔۔ یونیورسٹی نے سخت نوٹس بھیجا”، اس کی نظر سب پر سے ہوتی ہوئی ایک دم سامنے کھڑی ڈری سہمی لڑکی پر جب رکی آگے کے جملے سیف خود بھول گیا تھا۔

لائبہ کی نظریں زمین بوس تھیں چہرے پر سیال بہہ رہا تھا۔ کالی سیاہ لٹیں اس کے سپید چہرے کے ارد گرد حالہ بنائے ہوئے تھیں۔ خمدار پلکیں نیچے جھکی تھیں۔ اس کا تنفس تیز تھا۔ ہلکے زرد رنگ کے  کپڑوں میں اسکا دمکتا چہرا جس پر بہتے یہ موتی، سیف کو ساکت وجامد کر گئے تھے۔

“سر وہ وہاں وہاں دیکھیں وہاں ریگنگ ہو رہی ہے”، جوں ہی سمیہ کی نظر اس جانب گئ وہ ایک دم چیخی۔ سر غضنفر نے ان تمام لوگوں کو اپنی نظر سے گھیرا۔

“ابے سیف بھاگ سر آرہے ہیں پکڑے جائیں گے”، اس کا دوست اگر سیف کو ہاتھ سے کھینچ کر وہاں سے نہ لے گیا ہوتا تو سیف وہیں کچھ پل مزید کھڑا رہتا۔ سب کے سب دم دبا کر بھاگے تھے۔ یہاں سمیہ چیختی ہوئی سر کو ساتھ  لا رہی تھی۔

“سر دیکھیں وہ سب تھے۔ میری دوست کی ریگینگ کی ہے سر ان لوگوں نے سر آپ فوراً ایکشن لیں”، سمیہ جارحانہ انداز میں آگے بڑھ رہی تھی۔