متنازع ٹیلی کام ری آرگنائزیشن ترمیمی بل کے حوالے سے تجاویز پر مبنی رپورٹ تیار

متنازعہ ٹیلی کام ری آرگنائزیشن ترمیمی بل سے متعلق سفارشات پر مبنی نظرثانی شدہ رپورٹ تیار کر لی گئی ہے، جسے ذیلی کمیٹی نے وزیرِ قانون کی سربراہی میں قائم مرکزی کمیٹی کے حوالے کر دیا ہے۔

ذرائع کے مطابق اس رپورٹ کو آج وزیراعظم کے سامنے پیش کیے جانے کا امکان ہے۔ بتایا گیا ہے کہ ذیلی کمیٹی نے بل کی متنازع شقوں پر سامنے آنے والے تحفظات اور اعتراضات کا جائزہ لینے کے بعد ایک نیا مسودہ مرتب کیا ہے۔

نظرثانی شدہ تجاویز میں عوامی اور نجی املاک کے تحفظ کو مدنظر رکھتے ہوئے مختلف قانونی اور انتظامی حل شامل کیے گئے ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ نجی جائیدادوں پر فائبر آپٹک نیٹ ورک اور دیگر ٹیلی کام تنصیبات سے متعلق شقوں میں بھی تبدیلیوں پر غور کیا گیا ہے تاکہ ملکیتی حقوق کا بہتر تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔

رپورٹ میں سرکاری اراضی پر ٹیلی کام انفراسٹرکچر کی تنصیب کے لیے رائٹ آف وے کے معاملے کا بھی ازسرِنو جائزہ لیا گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق پہلے زیرِ غور مفت اجازت کی تجویز میں تبدیلی کرتے ہوئے اب سرکاری زمین کے استعمال کے بدلے مناسب معاوضہ مقرر کرنے کی سفارش شامل کی گئی ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ مجوزہ ترامیم کا مقصد ٹیلی کام شعبے کی ترقی اور عوامی مفادات کے درمیان متوازن حل پیدا کرنا ہے تاکہ مستقبل میں پیدا ہونے والے قانونی اور انتظامی تنازعات سے بچا جا سکے۔