ٹیلی کام صارفین کی حساس معلومات کی مبینہ غیرقانونی خرید و فروخت میں ملوث ایک گروہ کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے تین افراد کو گرفتار کر لیا

ٹیلی کام صارفین کی حساس معلومات کی مبینہ غیرقانونی خرید و فروخت میں ملوث ایک گروہ کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے تین افراد کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔

پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) کی شکایت پر نیشنل سائبر کرائم انویسٹیگیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) لاہور نے چھاپہ مار کارروائی کی، جس کے دوران تین ملزمان کو حراست میں لیا گیا۔

حکام کے مطابق کارروائی کے دوران پانچ موبائل فون، آٹھ بائیومیٹرک ویری فکیشن سسٹم (BVS) ڈیوائسز اور 43 مشتبہ سم کارڈز بھی قبضے میں لیے گئے۔

پی ٹی اے کا کہنا ہے کہ ابتدائی تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ ملزمان مبینہ طور پر واٹس ایپ کے ذریعے صارفین کا کال ڈیٹا ریکارڈ، لوکیشن اور آئی ایم ای آئی (IMEI) سے متعلق معلومات فروخت کرتے تھے۔ اس کے علاوہ فنگر پرنٹس، قومی شناختی کارڈ کی معلومات اور سبسکرائبر ڈیٹا کی غیرقانونی لین دین کے شواہد بھی حاصل ہوئے ہیں۔

حکام کے مطابق ضبط کیے گئے آلات سے مشتبہ مالی لین دین سے متعلق ریکارڈ بھی ملا ہے۔ ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کر لیا گیا ہے جبکہ مزید تحقیقات جاری ہیں۔

پی ٹی اے نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ ٹیلی کام صارفین کی ذاتی اور حساس معلومات کا تحفظ ادارے کی اولین ترجیحات میں شامل ہے اور اس نوعیت کی غیرقانونی سرگرمیوں کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی۔