میکسیکو کے معروف ٹک ٹاکر اور سوشل میڈیا انفلوئنسر سیزر گاسٹیلم کو لائیو ویڈیو کے دوران نامعلوم مسلح افراد نے فائرنگ کر کے قتل کر دیا،

میکسیکو کے معروف ٹک ٹاکر اور سوشل میڈیا انفلوئنسر سیزر گاسٹیلم کو لائیو ویڈیو کے دوران نامعلوم مسلح افراد نے فائرنگ کر کے قتل کر دیا، جس کے بعد ملک میں سوشل میڈیا شخصیات کی سیکیورٹی سے متعلق خدشات ایک بار پھر شدت اختیار کر گئے ہیں۔

غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق سیزر گاسٹیلم اپنے چند دوستوں کے ہمراہ ایک فاسٹ فوڈ ریسٹورنٹ کے باہر ٹک ٹاک پر لائیو اسٹریمنگ کر رہے تھے کہ اسی دوران موٹر سائیکل پر سوار ہیلمٹ پہنے دو افراد وہاں پہنچے۔ ان میں سے ایک شخص نے قریب آ کر فائرنگ کی، جس کے نتیجے میں سیزر موقع پر ہی دم توڑ گئے، جبکہ حملہ آور فوری طور پر فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے۔

مقامی حکام کے مطابق مقتول کے ٹک ٹاک پر تقریباً چھ لاکھ فالوورز تھے اور وہ اپنی مزاحیہ و تفریحی ویڈیوز کی وجہ سے خاصی شہرت رکھتے تھے۔ پولیس نے واقعے کے بعد حملہ آوروں کی تلاش کے لیے تحقیقات اور سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔

یہ افسوسناک واقعہ ریاست سینالوا کے دارالحکومت کولیاکان میں پیش آیا، جہاں منظم جرائم پیشہ گروہوں کے درمیان جاری پرتشدد جھڑپوں کے باعث سیکیورٹی کی صورتحال پہلے ہی تشویشناک سمجھی جاتی ہے۔

اس واقعے نے گزشتہ برس میکسیکو کی بیوٹی انفلوئنسر ویلیریا مارکیز کے قتل کی یاد بھی تازہ کر دی، جنہیں بھی ٹک ٹاک پر لائیو نشریات کے دوران ان کے بیوٹی سیلون میں گولی مار کر قتل کر دیا گیا تھا۔ بعد ازاں حکام نے اس مقدمے میں ایک مبینہ کارٹیل رہنما کو گرفتار کیا تھا، جس پر متعدد سنگین جرائم میں ملوث ہونے کے الزامات عائد کیے گئے تھے۔

سیزر گاسٹیلم کے قتل کے بعد ایک مرتبہ پھر میکسیکو میں سوشل میڈیا انفلوئنسرز کی حفاظت اور منظم جرائم کے بڑھتے ہوئے خطرات پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔