سولر توانائی کا بڑھتا استعمال بجلی کی طلب میں کمی کا باعث، قومی گرڈ کو نئے چیلنجز

پاکستان میں سولر سسٹمز کے استعمال میں تیزی سے اضافے کے باعث قومی بجلی کے نظام کو ایک نئے چیلنج کا سامنا ہے۔ دستیاب اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ سال کے مقابلے میں بجلی کی مجموعی طلب میں 8.66 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔

رپورٹس کے مطابق اپریل سے جون کے دوران مختلف بجلی تقسیم کار کمپنیوں (ڈسکوز) کی فروخت میں تقریباً 10 فیصد تک کمی دیکھی گئی۔ بجلی کی کھپت گھٹنے کے باعث صارفین پر کیپیسٹی پیمنٹس کا مالی دباؤ مزید بڑھنے کا خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے۔

دستاویز میں بتایا گیا ہے کہ بڑی تعداد میں گھریلو اور کمرشل صارفین کے سولر پر منتقل ہونے کو بجلی کی طلب میں کمی کی اہم وجہ قرار دیا گیا ہے۔ آئیسکو کی جانب سے گزشتہ سال اپریل کے مقابلے میں رواں سال اسی ماہ بجلی کی فروخت 10.77 فیصد کم رہی، جبکہ مئی میں 3.55 فیصد اور جون میں 6.29 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔

اعداد و شمار کے مطابق اپریل، مئی اور جون کے دوران گھریلو صارفین کی بجلی خریداری میں بالترتیب 19.69 فیصد، 7.92 فیصد اور 5.72 فیصد کمی ہوئی۔

اسی عرصے میں کمرشل صارفین کی بجلی خرید میں بھی کمی دیکھی گئی۔ اپریل میں یہ کمی 6.85 فیصد، مئی میں 3.80 فیصد جبکہ جون میں 1.85 فیصد ریکارڈ کی گئی۔

آئیسکو کے دائرہ کار میں اپریل سے جون کی سہ ماہی کے دوران بجلی کی طلب مجموعی طور پر 16 فیصد تک کم ہوئی۔ ماہانہ بنیاد پر اپریل میں گزشتہ سال کے مقابلے میں طلب میں 16 فیصد، مئی میں 8 فیصد اور جون میں تقریباً 2 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔

اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ سولر توانائی کے بڑھتے استعمال کے باعث روایتی گرڈ سے بجلی کی خرید میں مسلسل کمی آرہی ہے، جس سے بجلی کے موجودہ پیداواری اور مالیاتی نظام پر نئے سوالات بھی پیدا ہورہے ہیں۔