جماعت کا احتجاجی دھرنا کسی فرد یا شخصیت کے خلاف نہیں بلکہ ملک کے 25 کروڑ عوام کے حقوق کے لیے ہے۔حافظ نعیم الرحمان
لاہور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ عوام کو بجلی کے بھاری بلوں میں مختلف اقسام کے ٹیکسز کے ذریعے شدید مالی بوجھ کا سامنا ہے۔ ان کے مطابق آئی پی پیز میں بعض سیاستدانوں کی مبینہ شمولیت بھی موجود ہے، جبکہ فرانزک آڈٹ کے ذریعے بجلی کے شعبے میں ہونے والی بے ضابطگیوں کی حقیقت سامنے آسکتی ہے۔
انہوں نے الزام عائد کیا کہ ایف بی آر میں ہر سال تقریباً 1300 ارب روپے کی کرپشن ہوتی ہے اور ان کے مطابق آڈٹ میں اس حوالے سے شواہد سامنے آئے ہیں۔ حافظ نعیم الرحمان کا کہنا تھا کہ حکومت نے بریفنگ کے لیے کمیٹی قائم کی ہے، تاہم جماعت اسلامی صرف بریفنگ سننے کے بجائے اپنے مطالبات کی منظوری چاہتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جسے مؤقف پیش کرنا ہے وہ دھرنے میں آکر بات کرے۔
جماعت اسلامی کے امیر نے بتایا کہ احتجاجی دھرنے میں خواتین کی شرکت بھی شروع ہوگی اور مطالبات تسلیم ہونے تک احتجاج جاری رکھنے کا اعلان کیا۔
اس سے قبل لاہور میں مہنگائی، بے روزگاری اور پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے خلاف احتجاج کے دوران کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمان نے مطالبہ کیا کہ پٹرولیم لیوی ختم کرکے پٹرول کی قیمت 225 روپے فی لیٹر مقرر کی جائے۔
انہوں نے کہا کہ حکمران پٹرول کی بنیادی قیمت کے ساتھ ساتھ عوام پر عائد ٹیکسز میں بھی اضافہ کررہے ہیں اور قیمتوں میں مسلسل اضافے سے شہریوں کے مسائل بڑھ رہے ہیں۔
حافظ نعیم الرحمان کا کہنا تھا کہ وزیراعلیٰ ہاؤس کے باہر دھرنا وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی پالیسیوں کے خلاف احتجاج ہوگا۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر حکومت نے احتجاج روکنے کی کوشش کی تو موجودہ تحریک مزید شدت اختیار کرتے ہوئے حکومت مخالف تحریک میں تبدیل ہوسکتی ہے۔