سیرین ایئر نے پاکستان میں فضائی آپریشن مکمل طور پر بند کردیا
سیرین ایئر نے پاکستان میں اپنے تمام آپریشنز بند کردیئے ہیں، جبکہ پاکستان سول ایوی ایشن اتھارٹی نے ایئرلائن کے مختلف ایئرپورٹس پر موجود دفاتر بھی خالی کرا لیے ہیں۔ ذرائع کے مطابق پائلٹس سمیت کمپنی کے سیکڑوں ملازمین کو کئی ماہ سے تنخواہوں کی عدم ادائیگی کا سامنا ہے۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق سیرین ایئر گزشتہ سال سے فضائی آپریشن بحال کرنے میں کامیاب نہیں ہوسکی۔ ایئرلائن نے لاہور کے علامہ اقبال انٹرنیشنل ایئرپورٹ، اسلام آباد، کراچی، فیصل آباد اور ملتان میں قائم اپنے دفاتر بند کردیئے ہیں۔
ذرائع کے مطابق سول ایوی ایشن اتھارٹی نے بھی ایئرلائن سے متعلقہ دفاتر خالی کرا لیے ہیں۔ لینڈنگ، ٹیک آف، پارکنگ اور دفتر کے کرایوں سمیت مختلف مدات میں ایئرلائن کے واجبات سیکیورٹی کے طور پر جمع رقم سے وصول کیے گئے ہیں۔
بتایا گیا ہے کہ سیرین ایئر کے لاہور، کراچی اور اسلام آباد میں قائم دیگر دفاتر بھی بند کردیئے گئے ہیں۔ ایئرپورٹس پر خالی کرائے گئے دفاتر مستقبل میں دوسری ایئرلائنز کو فراہم کیے جانے کا امکان ہے، جبکہ سیرین ایئر کی انتظامیہ کو اپنے باقی ماندہ ذاتی سامان دفاتر سے منتقل کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
دوسری جانب سیرین ایئر انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ ایئرلائن نے سرکاری اداروں، سول ایوی ایشن اتھارٹی، ٹیکس اور کرایوں سے متعلق واجبات ادا کردیئے ہیں۔ انتظامیہ کے مطابق فضائی آپریشن دوبارہ شروع کرنے کی کوشش کی گئی، تاہم بعض ناگزیر وجوہات کے باعث یہ ممکن نہ ہوسکا۔
ایئرلائن انتظامیہ کا کہنا ہے کہ اس کے پاس آپریشن بحال کرنے کے لیے مطلوبہ تعداد میں طیارے دستیاب نہیں تھے۔ دو طیاروں میں فنی خرابی پیدا ہوئی، لیکن انہیں بروقت دوبارہ قابلِ استعمال نہیں بنایا جاسکا۔ انتظامیہ کے مطابق ایئرپورٹ اتھارٹی نے بھی اضافی مہلت فراہم کی اور آپریشن کی بحالی میں تعاون کیا، تاہم سیرین ایئر نہ اپنے خراب طیارے درست کروا سکی اور نہ ہی ان کے متبادل نئے طیارے حاصل کرسکی۔