نئے صوبوں اور انتظامی یونٹس کے قیام پر مباحثہ، ماہرین کا مؤثر بلدیاتی نظام پر زور

سسٹین ایبل ڈویلپمنٹ پالیسی انسٹی ٹیوٹ (ایس ڈی پی آئی) کے زیر اہتمام نئے انتظامی یونٹس اور صوبوں کے قیام کے موضوع پر قومی سطح کا مباحثہ منعقد ہوا، جس میں سیاسی رہنماؤں، ماہرین اور دیگر ممتاز شخصیات نے شرکت کی۔

مباحثے کے دوران ملک میں نئے صوبوں کے قیام، اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی، مضبوط بلدیاتی ڈھانچے، مالی خودمختاری اور بہتر حکمرانی جیسے مختلف پہلوؤں پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔

پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما قمر زمان کائرہ نے کہا کہ ملک کو وسائل، پانی، معدنیات اور اختیارات کی تقسیم سمیت کئی بنیادی مسائل کا سامنا ہے۔ ان کے مطابق نئے صوبوں پر بحث کرتے ہوئے اس امر کو پیش نظر رکھنا چاہیے کہ ملک میں علاقائی فاصلے اور تقسیم مزید نہ بڑھے۔

قمر زمان کائرہ کا کہنا تھا کہ سیاسی جماعتیں عموماً اختیارات نچلی سطح تک منتقل کرنے میں دلچسپی نہیں دکھاتیں، حالانکہ ایک مؤثر لوکل گورنمنٹ نظام ضروری ہے۔ ان کے مطابق اگر موجودہ قوانین میں خامیاں ہیں تو ان میں اصلاح کی جانی چاہیے اور پہلے سے قائم انتظامی ڈھانچے کو بہتر انداز میں استعمال کیا جاسکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ تمام فیصلے آئینی دائرہ کار کے اندر رہتے ہوئے کرنے ہوں گے اور مقامی حکومتوں کے نظام کو ختم نہیں کیا جاسکتا۔ ان کا کہنا تھا کہ جمہوری اداروں کی مضبوطی کے لیے عوامی رائے اور شہریوں کی شرکت بنیادی اہمیت رکھتی ہے، جبکہ عوامی دباؤ بھی حکومتوں اور اداروں کے لیے ایک بڑی قوت ہوتا ہے۔

بیرسٹر سیف نے نئے صوبوں کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ملک میں انتظامی بنیادوں پر مزید صوبے قائم کیے جانے چاہئیں۔ ان کے مطابق مختلف فریقوں کے درمیان اتفاق رائے پیدا کرنے کے لیے ایک باقاعدہ کمیشن تشکیل دیا جاسکتا ہے۔

بیرسٹر سیف کا کہنا تھا کہ سیاسی جماعتوں کی شناخت بعض اوقات علاقائی بنیادوں پر بھی تشکیل پاتی ہے اور اگر عوامی مسائل حل نہ ہوں تو یہی شناختیں تنازعات کو جنم دے سکتی ہیں۔ انہوں نے مضبوط بلدیاتی نظام کو ضروری قرار دیتے ہوئے کہا کہ بہتر انتظامی کارکردگی کے لیے نئے صوبوں پر غور کیا جانا چاہیے۔

وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے کہا کہ چاروں وزرائے اعلیٰ کو مجموعی طور پر 8 ہزار 884 ارب روپے فراہم کیے گئے، تاہم صوبائی سطح سے اضلاع تک وسائل منتقل کرنے کا مؤثر طریقہ کار موجود نہیں۔ ان کے مطابق صوبائی دارالحکومت سے جتنا دور ضلع ہو، وہاں پسماندگی کے امکانات اتنے ہی بڑھ جاتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ نئے صوبوں کے قیام کے حوالے سے آئین میں پہلے ہی گنجائش موجود ہے اور اس معاملے کو آئینی فریم ورک میں رہتے ہوئے آگے بڑھایا جاسکتا ہے۔

سلمان اکرم راجہ نے مؤقف اختیار کیا کہ نئے صوبے بنانے سے پہلے موجودہ انتظامی اور حکمرانی کے مسائل کو حل کرنا ضروری ہے۔ ان کے مطابق جب تک عوامی مسائل پر قابو نہیں پایا جاتا، حکومت اور شہریوں کے درمیان اعتماد کا فاصلہ کم نہیں ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ صوبائی اسمبلیاں ماضی میں اختیارات کو نچلی سطح تک مؤثر انداز میں منتقل نہیں کرسکیں، اس لیے نئے صوبوں کی بحث سے پہلے بلدیاتی اداروں کو مضبوط اور بااختیار بنانا زیادہ اہم ہے۔