بانی پی ٹی آئی کی صحت پر پی ٹی آئی قیادت تشویش کا اظہار، اہلخانہ اور ڈاکٹروں سے ملاقات کا مطالبہ

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی، رہنما اسد قیصر اور دیگر پی ٹی آئی قائدین نے بانی پی ٹی آئی کی صحت سے متعلق سپریم کورٹ میں پیش کی گئی رپورٹ پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اہلخانہ، ذاتی معالجین اور وکلا کو ان سے ملاقات کی اجازت دینے کا مطالبہ کیا ہے۔

نیوز کانفرنس میں سہیل آفریدی نے کہا کہ پارٹی قیادت رپورٹ کے تمام پہلوؤں پر مشاورت کرے گی، تاہم موجودہ صورتحال نے شدید تشویش پیدا کردی ہے۔ ان کا دعویٰ تھا کہ بانی پی ٹی آئی کے بلڈ پریشر میں معمول کے مقابلے میں اضافہ دیکھا گیا ہے اور ان کے مطابق ذاتی ڈاکٹروں کو معائنہ کرنے کی سہولت بھی نہیں دی جارہی۔

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نے مطالبہ کیا کہ بانی پی ٹی آئی سے ان کے اہلخانہ کی ملاقات کرائی جائے اور علاج کے معاملے میں خاندان کو بھی اعتماد میں لیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ پارٹی کا بنیادی مطالبہ ریلیف نہیں بلکہ انصاف اور بنیادی آئینی و انسانی حقوق کی فراہمی ہے۔

سہیل آفریدی نے کہا کہ اگر بانی پی ٹی آئی کی صحت کے حوالے سے صورتحال تشویشناک ہے تو انہیں مناسب طبی سہولت اور ضرورت پڑنے پر بہترین اسپتال میں علاج کی سہولت فراہم کی جانی چاہیے۔ ان کے مطابق اگر انہیں کوئی نقصان پہنچا تو موجودہ حکومت کو جواب دینا ہوگا۔

انہوں نے مزید کہا کہ بانی پی ٹی آئی کے مقدمے کی سماعت بھی اگلے روز ہونی ہے اور پارٹی عدالت سے انصاف کی توقع رکھتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جیل میں بانی پی ٹی آئی کے ساتھ پیش آنے والی صورتحال کے بارے میں پارٹی کے پاس براہِ راست معلومات نہ ہونے کی وجہ سے خدشات برقرار ہیں۔

اسد قیصر نے عدالت سے بانی پی ٹی آئی کو انصاف فراہم کرنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ حالات میں ان کے آئینی اور بنیادی حقوق متاثر ہورہے ہیں۔ ان کے مطابق ماضی میں نواز شریف کی بیماری کے دوران علاج کے لیے اسپتال منتقل کیا گیا تھا اور ان کے علاج میں رکاوٹ نہیں ڈالی گئی تھی۔ انہوں نے توقع ظاہر کی کہ عدالت بانی پی ٹی آئی کے معاملے میں بھی انصاف کرے گی۔

دوسری جانب بیرسٹر گوہر نے کہا کہ تحریک انصاف بانی پی ٹی آئی کی صحت کے معاملے کو سیاسی مفاد کے لیے استعمال نہیں کرنا چاہتی، لیکن ان کے اہلخانہ کی تشویش کو پارٹی بھی اپنی تشویش سمجھتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ طویل عرصے سے براہِ راست ملاقات نہ ہونے کے باعث بانی پی ٹی آئی کی صحت سے متعلق خدشات برقرار ہیں۔

بیرسٹر گوہر نے مطالبہ کیا کہ بانی پی ٹی آئی سے اہلخانہ، ڈاکٹرز اور وکلا کی ملاقات کرائی جائے تاکہ صورتحال واضح ہوسکے۔ ان کا کہنا تھا کہ ملاقاتیں ہونے سے تشویش کم ہوگی، جبکہ ملاقات نہ ہونے کی صورت میں خدشات برقرار رہیں گے۔

انہوں نے مزید کہا کہ بانی پی ٹی آئی کی صحت سے متعلق رپورٹ میں بلڈ پریشر بڑھنے کا ذکر ہے، اس لیے ضرورت پڑنے پر انہیں فوری طبی مرکز منتقل کیا جانا چاہیے۔ بیرسٹر گوہر نے یہ بھی کہا کہ بانی پی ٹی آئی سے ان کی بہنوں کی ملاقات کا حق تسلیم کیا جانا چاہیے اور سوال اٹھایا کہ علیمہ خان کو ملاقات سے روکنے کی قانونی وجہ کیا ہے؟