مفتاح اسماعیل کی کراچی کی صورتحال پر پیپلز پارٹی کو تنقید

سابق وفاقی وزیر خزانہ اور عوام پاکستان پارٹی کے رہنما مفتاح اسماعیل نے کراچی کی موجودہ صورتحال پر پیپلز پارٹی کی سندھ حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ کراچی دنیا کے بدترین شہروں میں شمار ہونے لگا ہے اور وہ سمجھتے ہیں کہ شہر کو اس مقام تک پہنچانے میں پیپلز پارٹی کی طویل حکمرانی کا بڑا کردار ہے۔

سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں مفتاح اسماعیل نے دعویٰ کیا کہ کراچی سے بدتر قرار دیے جانے والے چند شہروں میں بعض شدید بدامنی اور خانہ جنگی سے متاثر ہیں، جبکہ ایک شہر میں حکومت مخالف مظاہروں کے دوران بڑی تعداد میں ہلاکتیں ہوچکی ہیں۔ ان کے مطابق کراچی کی موجودہ حالت سندھ میں پیپلز پارٹی کے تقریباً 18 سالہ دور حکومت کا نتیجہ ہے۔

انہوں نے الزام لگایا کہ پیپلز پارٹی کے اقتدار میں آنے کے بعد کراچی میں ایک مؤثر اور بااختیار بلدیاتی نظام کمزور یا ختم کردیا گیا۔ مفتاح اسماعیل کے مطابق پارٹی نے حالیہ آئینی ترامیم کے دوران بھی مقامی حکومتوں کو مؤثر اختیارات دینے کی تجاویز کی حمایت نہیں کی اور سندھ میں اختیارات نچلی سطح تک منتقل کرنے کی سیاسی خواہش موجود نہیں۔

مفتاح اسماعیل نے مزید الزام عائد کیا کہ کراچی کے شہریوں کو مختلف شعبوں میں مساوی سہولیات نہیں ملتیں۔ ان کے مطابق سرکاری ملازمتوں، ترقیاتی منصوبوں اور پینے کے پانی کی فراہمی جیسے معاملات میں شہریوں کو مسائل کا سامنا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ صوبے کی تقریباً 38 فیصد آبادی کے لیے پانی کے وسائل میں مناسب حصہ بھی یقینی نہیں بنایا گیا۔

ان کا کہنا تھا کہ اب ملک میں مختلف حلقے اختیارات کو نچلی سطح تک منتقل کرنے پر بات کررہے ہیں، چاہے یہ اختیارات مضبوط مقامی حکومتوں، نئے انتظامی یونٹس یا چھوٹے صوبوں کی شکل میں ہوں۔ مفتاح اسماعیل کے مطابق اس عمل کی حتمی شکل کیا ہوگی یہ واضح نہیں، لیکن موجودہ نظام میں تبدیلی کی ضرورت ضرور ہے اور اس پر فوری توجہ دینی چاہیے۔

انہوں نے اپنے موقف کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ کراچی کی مخالفت کرنے والوں کو کچھ عرصہ شہر میں رہ کر زمینی صورتحال کا مشاہدہ کرنا چاہیے۔ ان کے بقول ٹوٹی سڑکیں، کچرے کے ڈھیر، پینے کے صاف پانی کے لیے اضافی اخراجات، کمزور پبلک ٹرانسپورٹ، کھلے مین ہولز کے حادثات اور گلیوں میں جمع گندا پانی شہری مسائل کی سنگینی ظاہر کرتے ہیں۔

مفتاح اسماعیل نے کہا کہ سرکاری اداروں میں روزمرہ کاموں کے لیے شہریوں کو درپیش مشکلات، پولیس اسٹیشن کے معاملات، سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی سے اجازت کے مراحل اور جائیداد کی رجسٹریشن جیسے امور کا سامنا کرنے سے بھی شہر کے انتظامی مسائل کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔ ان کے مطابق کراچی کے شہریوں کو بہتر سہولیات اور مؤثر مقامی نظام کی ضرورت ہے۔