عمران خان کی اسپتال منتقلی کا عدالتی فیصلہ خوش آئند ہے.خواجہ سعد رفیق
مسلم لیگ ن کے رہنما خواجہ سعد رفیق نے بانی پی ٹی آئی عمران خان کو الشفا اسپتال منتقل کرنے اور ان کی بہن و ڈاکٹر کو ملاقات کی اجازت دینے کے عدالتی فیصلے کو خوش آئند قرار دیا ہے۔
سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اپنے بیان میں خواجہ سعد رفیق نے کہا کہ اس فیصلے سے عدلیہ کی ساکھ اور وقار کی بحالی میں مدد مل سکتی ہے۔ ان کے مطابق موجودہ صورتحال میں عدالت کا یہ فیصلہ ایک مثبت پیش رفت ہے اور اس سے انہیں بھی اطمینان محسوس ہوا ہے۔
انہوں نے عدالتی فیصلے پر بینچ کے ججز کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ اگر اس معاملے میں ریاستی سطح پر بھی تعاون شامل ہے تو اسے بھی سراہا جانا چاہیے۔ خواجہ سعد رفیق کے مطابق عمران خان کی صحت اور زندگی اہم معاملہ ہے اور اس حوالے سے کسی قسم کی غفلت نہیں ہونی چاہیے۔
سعد رفیق نے پی ٹی آئی اور عمران خان کے اہلخانہ پر بھی زور دیا کہ وہ آئندہ اس معاملے میں محتاط اور ذمہ دارانہ طرزِعمل اختیار کریں۔ ان کے مطابق فریقین کا مثبت رویہ مستقبل میں مزید معاملات کے حل کی راہ ہموار کرسکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ وہ اس سے قبل بھی عمران خان کے اہلخانہ کو ملاقات کی اجازت دینے اور ان کی پسند کے ڈاکٹروں تک رسائی کے حق میں آواز اٹھاتے رہے ہیں۔ ان کے مطابق حکومت کی جانب سے عمران خان کے علاج کے لیے ماہر ڈاکٹرز کی خدمات حاصل کیے جانے کی اطلاعات بھی سامنے آتی رہی ہیں۔
سابق وفاقی وزیر نے تاہم کہا کہ طویل عرصے تک قید تنہائی میں رہنے سے کسی بھی شخص کی صحت متاثر ہوسکتی ہے، اس لیے جیل میں موجود سیاسی قیدی کے طبی اور بنیادی حقوق کا خصوصی خیال رکھا جانا چاہیے۔ ان کے مطابق اگر زیرِ حراست شخص سیاسی مخالف بھی ہو تو اس کے تحفظ اور قانونی حقوق کی ذمہ داری مزید اہم ہوجاتی ہے۔
خواجہ سعد رفیق نے کہا کہ بہتر ہوتا اگر حکومت خود اس حوالے سے فیصلہ کرتی، تاہم اب فیصلہ سامنے آچکا ہے تو تمام فریقوں کو سنجیدگی اور ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے عمران خان کے لیے طبی اور انسانی سہولتوں کو یقینی بنانا چاہیے۔
انہوں نے پی ٹی آئی کے دیگر زیرِ حراست رہنماؤں ڈاکٹر یاسمین راشد، اعجاز چودھری، عمر چیمہ اور میاں محمود الرشید سمیت دیگر قیدیوں کی صحت اور حالات پر بھی توجہ دینے کی ضرورت پر زور دیا۔
سعد رفیق کا کہنا تھا کہ اس معاملے کو سیاسی طعنوں، تلخ بیانات یا ماضی کے سیاسی تنازعات دہرانے کے بجائے انسانی اور قانونی بنیادوں پر دیکھا جانا چاہیے۔