حکومت کی عمران خان کی اسپتال منتقلی کے عدالتی حکم پر نظرثانی درخواست دائر

حکومت نے بانی پی ٹی آئی عمران خان کو جیل سے نجی اسپتال منتقل کرنے سے متعلق سپریم کورٹ کے فیصلے کو چیلنج کرتے ہوئے نظرثانی درخواست دائر کردی ہے۔ درخواست چیف کمشنر اسلام آباد کی جانب سے جمع کرائی گئی۔

درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ جیل قوانین میں قیدی کو طبی ضرورت کے تحت اسپتال منتقل کرنے کا واضح طریقہ کار موجود ہے، تاہم عدالت کے حالیہ حکم میں ان قواعد کو مدنظر نہیں رکھا گیا۔ حکومت کے مطابق قانون میں دیے گئے طریقہ کار سے ہٹ کر حکم جاری ہونا ایک اہم قانونی خامی ہے۔

نظرثانی درخواست میں آرٹیکل 10 اے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ ہر شخص کو منصفانہ ٹرائل کا آئینی حق حاصل ہے۔ حکومتی مؤقف کے مطابق کیس میں تمام متعلقہ فریقین کو نوٹس دیے بغیر حکم جاری کیا گیا، جبکہ درخواست کے قابلِ سماعت ہونے سے متعلق ایک اہم قانونی نکتہ بھی زیرِ غور تھا۔

درخواست میں کہا گیا ہے کہ عدالت نے اس قانونی سوال کا حتمی فیصلہ کیے بغیر یکطرفہ عبوری ریلیف دے دیا، حالانکہ مقدمے کے عبوری مرحلے میں ایسا حکم نہیں دیا جاسکتا جو عملاً حتمی نوعیت کا ہو۔

یاد رہے کہ سپریم کورٹ نے عمران خان کی صحت اور اہلخانہ سے ملاقات سے متعلق کیس میں سات صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ جاری کرتے ہوئے انہیں دو دن کے اندر شفا انٹرنیشنل اسپتال منتقل کرنے کی ہدایت کی تھی۔

عدالتی حکم کے مطابق اسپتال میں عمران خان کے علاج کے لیے مختلف شعبوں کے ماہر ڈاکٹروں پر مشتمل میڈیکل بورڈ تشکیل دیا جائے گا۔ اس میں جنرل فزیشن، جنرل سرجن، آئی اسپیشلسٹ، کارڈیالوجسٹ اور میڈیسن اسپیشلسٹ شامل ہوں گے، جبکہ ڈاکٹر فیصل سلطان اور ڈاکٹر عظمیٰ کو بھی طبی ٹیم کے ساتھ منسلک رکھنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

فیصلے میں یہ بھی قرار دیا گیا کہ عمران خان کے اسپتال میں علاج کے اخراجات ان کے اہلخانہ برداشت کریں گے۔ مزید برآں ہفتے میں ایک دن اہلخانہ کو ملاقات کی اجازت دینے اور آئندہ سماعت تک صحت سے متعلق معلومات کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال نہ کرنے کی یقین دہانی پر بھی زور دیا گیا۔

عدالت نے اسپتال کے باہر کسی سیاسی اجتماع کو روکنے کی ہدایت بھی کی ہے۔ فیصلے میں واضح کیا گیا کہ عدالتی یقین دہانیوں کی خلاف ورزی کی صورت میں دیا گیا ریلیف واپس لیا جاسکتا ہے، جبکہ حکومت، عمران خان یا ان کے اہلخانہ کسی شکایت کی صورت میں دوبارہ عدالت سے رجوع کرسکتے ہیں۔

سپریم کورٹ نے حکومت کو اسپتال میں عمران خان کی سکیورٹی یقینی بنانے کا حکم دیا، جبکہ ان کے خلاف درج تمام مقدمات کی تفصیلات اور مکمل طبی ریکارڈ بھی عدالت میں پیش کرنے کی ہدایت کی تھی۔