بڑے صوبوں کا موجودہ نظام ترقی کی راہ میں رکاوٹ ہے.فاروق ستار

متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے رہنما اور رکن قومی اسمبلی فاروق ستار نے کہا ہے کہ قیام پاکستان کے بعد سے ملک میں ایک طویل عرصے سے سیاسی اور انتظامی جمود برقرار ہے، جس کے خاتمے کے لیے نئے انتظامی یونٹس کے قیام پر سنجیدگی سے غور کرنا ہوگا۔

میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے فاروق ستار نے تجویز دی کہ جن علاقوں میں عوام نئے صوبے کے قیام کو ضروری سمجھتے ہیں، وہاں ریفرنڈم کے ذریعے رائے معلوم کی جائے۔ ان کے مطابق عوامی رائے کو سامنے رکھتے ہوئے انتظامی ڈھانچے میں تبدیلی کی جاسکتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ آئین کے آرٹیکل 239 میں مطلوبہ پارلیمانی اکثریت کے ذریعے ترمیم کی گنجائش موجود ہے، لہٰذا اگر موجودہ آئینی شقیں نئے صوبوں کے قیام میں رکاوٹ بن رہی ہیں تو ان میں ضروری تبدیلی کی جانی چاہیے۔

فاروق ستار کے مطابق پاکستان میں کئی دہائیوں سے چند بڑے صوبوں پر مبنی انتظامی ڈھانچہ برقرار ہے، لیکن اس ماڈل سے ملک کو مطلوبہ استحکام، ترقی اور بہتر حکمرانی حاصل نہیں ہوسکی۔

انہوں نے کہا کہ اب ریاستی اور فیصلہ ساز حلقوں میں بھی نئے صوبوں کے قیام سے متعلق گفتگو سنائی دے رہی ہے، جسے عملی پیش رفت میں تبدیل کرنے کی ضرورت ہے۔

ایم کیو ایم رہنما کا کہنا تھا کہ پاکستان کو صرف موجودہ چار صوبوں کی بنیاد پر چلانے کے بجائے انتظامی ضروریات اور عوامی سہولت کو مدنظر رکھتے ہوئے نئے صوبوں کے قیام پر غور ہونا چاہیے۔ ان کے مطابق ایسا اقدام ملکی نظام کو مزید مؤثر اور متوازن بنانے میں مددگار ثابت ہوسکتا ہے۔