اعتراضات دور ہونے تک ن لیگ سے سیاسی تعاون نہیں کریں گے.بلاول بھٹو
چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ مسلم لیگ (ن) کے ساتھ سیاسی تعاون اس وقت تک ممکن نہیں جب تک پیپلز پارٹی کے تحفظات دور نہیں کیے جاتے۔ تاہم ان کے مطابق قومی مفاد سے متعلق معاملات میں ن لیگ کے ساتھ تعاون کیا جاسکتا ہے۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بلاول بھٹو نے کہا کہ فی الحال پیپلز پارٹی مسلم لیگ (ن) کے ساتھ سیاسی رابطہ کاری کے موڈ میں نہیں، کیونکہ ان کے تحفظات پر بات کرنے کے لیے حکومت کی جانب سے اب تک کوئی مؤثر رابطہ نہیں کیا گیا۔
آزاد کشمیر کے انتخابات کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ انہیں زیادہ سے زیادہ متنازع بنانے کی کوشش کی گئی۔ ان کا دعویٰ تھا کہ وفاقی حکومت سے وابستہ بڑی تعداد میں لوگ انتخابی عمل کے دوران وہاں موجود تھے۔ بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ اگر انتخابات ایک ہی وقت میں کرائے جاتے تو آزاد کشمیر میں پیپلز پارٹی حکومت بنانے کی پوزیشن میں ہوتی۔
بانی پی ٹی آئی عمران خان کی صحت اور اسپتال منتقلی کے معاملے پر بلاول بھٹو نے کہا کہ علاج کروانا ہر قیدی کا بنیادی حق ہے۔ ان کے مطابق بہتر ہوتا کہ حکومت خود اس معاملے میں اقدام کرتی اور عدالت کو مداخلت کی ضرورت پیش نہ آتی۔ انہوں نے عمران خان کو طبی سہولیات فراہم کرنے کے عدالتی فیصلے کا خیرمقدم کیا اور کہا کہ پیپلز پارٹی اس وقت کسی ان ہاؤس تبدیلی پر توجہ نہیں دے رہی۔
انہوں نے کہا کہ اپوزیشن نے قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹیوں کے اجلاسوں کا بائیکاٹ کررکھا ہے، تاہم پیپلز پارٹی چاہتی ہے کہ اپوزیشن ان کمیٹیوں کا حصہ بنے تاکہ پارلیمانی عمل مؤثر انداز میں جاری رہ سکے۔
بلاول بھٹو نے انتخابی اصلاحات کو بھی اہم قرار دیتے ہوئے کہا کہ پیپلز پارٹی ماضی میں اس عمل میں نمایاں کردار ادا کرتی رہی ہے۔ ان کے مطابق اس وقت ملک میں انتخابی نظام کے حوالے سے مختلف سیاسی جماعتوں کو تحفظات ہیں، اس لیے حکومت اور اپوزیشن باہمی مشاورت سے اصلاحات پر اتفاق کرسکتی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ وہ نہیں چاہتے کہ محدود جغرافیائی علاقوں میں انتخابات بار بار مختلف مراحل میں منعقد کیے جائیں۔ ان کے مطابق اپوزیشن کے ساتھ حالیہ رابطہ ایک مثبت آغاز ہے اور اس کے بعد سیاسی رابطوں میں پیدا ہونے والا خلا بھی کم ہوا ہے۔
چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہا کہ اگر کسی جماعت کو انتخابی نتائج پر اعتراضات ہیں تو ان پر بات ہونی چاہیے، تاہم پیپلز پارٹی انتخابی شکست کو تسلیم کرنے کے لیے تیار ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ انتخابات ایسے نہیں ہونے چاہئیں کہ سیاسی کشیدگی کے نتیجے میں کارکنوں کی جانیں ضائع ہوں۔
نئے صوبوں کے قیام سے متعلق بلاول بھٹو نے کہا کہ پیپلز پارٹی کے سامنے فی الحال کوئی واضح تجویز نہیں آئی۔ ان کے مطابق صوبوں کے معاملے پر پارٹی عوامی رائے کو بنیادی اہمیت دے گی اور کسی بھی فیصلے کو زبردستی قبول نہیں کیا جائے گا۔
انہوں نے واضح کیا کہ پنجاب کے خلاف کسی سازش کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا۔ ان کے مطابق انتظامی یا سیاسی تبدیلیاں صرف عوام کی رضامندی اور وسیع تر اتفاق رائے کے ذریعے ہونی چاہئیں، جبکہ اتفاق رائے کے بغیر ہونے والے فیصلوں میں ان کی جماعت رکاوٹ بننے کے بجائے اپنا جمہوری مؤقف پیش کرے گی۔