دلی میں پاکستانی ہائی کمیشن کے باہر حفاظتی حصار ہٹا دیا گیا

نئی دہلی میں قائم پاکستانی ہائی کمیشن کے باہر بھارتی حکام نے بیرونی سکیورٹی حصار ختم کرتے ہوئے مختلف رکاوٹیں بھی ہٹا دی ہیں۔

بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق ہائی کمیشن کے اطراف ٹریفک کی روانی کے لیے نصب حفاظتی ستون اور دیگر بیرونی رکاوٹیں بھی ہٹادی گئیں، جبکہ پاکستانی ویزا سیکشن کے باہر موجود ایک حفاظتی احاطہ بھی ختم کردیا گیا۔

رپورٹ کے مطابق بھارتی حکام نے پاکستانی ہائی کمیشن کے باہر سکیورٹی انتظامات میں اس تبدیلی کی کوئی واضح وجہ بیان نہیں کی۔

یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب پاکستان نے بھارت میں امریکی سفیر سرجیو گور کے جموں و کشمیر سے متعلق بیان پر شدید تحفظات کا اظہار کیا تھا۔

پاکستانی دفتر خارجہ نے امریکی ناظم الامور کو احتجاجی مراسلہ پہنچاتے ہوئے امریکی سفیر کے بیان پر باضابطہ احتجاج ریکارڈ کرایا۔ پاکستان نے مؤقف اختیار کیا کہ بیان کشمیر کی متنازع حیثیت سے متعلق حقائق سے مطابقت نہیں رکھتا۔

دفتر خارجہ کے مطابق پاکستان نے جموں و کشمیر کی قانونی اور سیاسی حیثیت سے متعلق امریکی سفیر کے مؤقف کو مسترد کرتے ہوئے اسے قابلِ مذمت قرار دیا۔

ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ جموں و کشمیر ایک بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ متنازع خطہ ہے اور اس کے حتمی مستقبل کا فیصلہ ابھی ہونا باقی ہے۔ ان کے مطابق عالمی طاقتوں کے بیانات اس متنازع حیثیت کو مدنظر رکھتے ہوئے دیے جانے چاہئیں۔

پاکستان کا مؤقف ہے کہ مسئلہ کشمیر کا مستقل حل اقوام متحدہ کی متعلقہ قراردادوں اور کشمیری عوام کی خواہشات کے مطابق ہی ممکن ہے۔