وٹامن بی 2 اور بی 6 گردوں سمیت دل و میٹابولک صحت کے لیے مفید ہوسکتے ہیں
گردوں کے دائمی امراض دنیا بھر میں صحت کے بڑے مسائل میں شمار ہوتے ہیں اور لاکھوں افراد ان کا سامنا کرتے ہیں۔ ایک نئی تحقیق میں عندیہ دیا گیا ہے کہ بعض بی وٹامنز کا مناسب استعمال گردوں، دل اور میٹابولک صحت سے متعلق پیچیدگیوں کے خطرے کو کم کرنے میں مددگار ہوسکتا ہے۔
تحقیق، جو جرنل فرنٹیئرز میں شائع ہوئی، میں 14 ہزار سے زائد افراد کے صحت اور غذائی اعداد و شمار کا جائزہ لیا گیا۔ محققین نے وٹامن بی 1، بی 2، بی 3، بی 6، بی 12 اور فولیٹ سمیت مختلف بی وٹامنز کے جسم میں موجودگی اور کارڈیو ویسکولر، گردوں اور میٹابولک مسائل سے ان کے تعلق کا جائزہ لیا۔
مطالعے کے دوران یہ بھی دیکھا گیا کہ شرکاء اپنی روزمرہ خوراک کے ذریعے مختلف بی وٹامنز کتنی مقدار میں حاصل کررہے تھے۔ بعد ازاں محققین نے اس معلومات کا ایک الگ گروپ کے ڈیٹا سے موازنہ کیا تاکہ نتائج کا مزید جائزہ لیا جاسکے۔
تحقیق میں سامنے آیا کہ وٹامن بی 2 اور بی 6 کی زیادہ مقدار استعمال کرنے والے افراد میں کارڈیو ویسکولر، گردوں اور میٹابولک سنڈروم کی شدید کیفیت کا خطرہ نسبتاً کم تھا۔
مطالعے کے مطابق زیادہ بی 2 استعمال کرنے والوں میں شدید کیفیت کا امکان تقریباً 27 فیصد جبکہ بی 6 کا زیادہ استعمال کرنے والوں میں یہ خطرہ تقریباً 26 فیصد کم دیکھا گیا۔ تاہم دیگر بی وٹامنز کے استعمال اور اس خطرے میں کمی کے درمیان واضح تعلق نہیں ملا۔
وٹامن بی 2 اور بی 6 جسم کے اہم حیاتیاتی افعال میں حصہ لیتے ہیں، جن میں خوراک سے توانائی حاصل کرنے کا عمل بھی شامل ہے۔ یہ وٹامنز جسم میں آکسیڈیٹو اسٹریس اور سوزش جیسے عوامل سے نمٹنے میں بھی کردار ادا کرتے ہیں، جنہیں دل، گردوں اور میٹابولک مسائل سے جوڑا جاتا ہے۔
محققین کا کہنا ہے کہ تحقیق سے براہِ راست وجہ اور اثر ثابت نہیں ہوتا، تاہم نتائج اس امکان کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ بی 2 اور بی 6 کی کم مقدار مجموعی قلبی، گردوں اور میٹابولک صحت کے لیے نقصان دہ ہوسکتی ہے۔
وٹامن بی 2 اور بی 6 کن غذاؤں سے ملتے ہیں؟
وٹامن بی 2 دودھ اور اس سے بنی اشیا، انڈوں، گوشت اور سبز پتوں والی سبزیوں سے حاصل کیا جاسکتا ہے۔
اسی طرح وٹامن بی 6 کے اچھے غذائی ذرائع میں مرغی، مچھلی، گوشت، آلو، چنے اور مختلف دیگر غذائیں شامل ہیں۔
واضح رہے کہ کسی وٹامن یا غذائی سپلیمنٹ کو بیماری سے بچاؤ یا علاج کا یقینی ذریعہ نہیں سمجھنا چاہیے۔ متوازن خوراک اور ضرورت کے مطابق طبی مشورہ مجموعی صحت کے لیے زیادہ اہم ہے۔