شہباز شریف کی اپوزیشن کو مذاکرات کی دعوت، جمہوری عمل مضبوط بنانے پر زور

وزیراعظم شہباز شریف نے اپوزیشن جماعتوں کو ایک مرتبہ پھر مذاکرات کی پیشکش کرتے ہوئے کہا ہے کہ سیاسی قوتیں مل بیٹھ کر بات چیت کریں تاکہ ملک میں جمہوری نظام کو مزید مضبوط بنایا جاسکے۔

وفاقی کابینہ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ حکومت اپوزیشن کے ساتھ بامقصد مذاکرات کے لیے تیار ہے اور وہ ایک بار پھر اپوزیشن کو مذاکرات کی میز پر آنے کی دعوت دے رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ بات چیت کا عمل دونوں فریقوں کی کوشش سے ہی آگے بڑھ سکتا ہے، اب اپوزیشن کو فیصلہ کرنا ہے کہ وہ کب مذاکرات کا آغاز کرتی ہے۔

وزیراعظم نے تاجر برادری کے لیے متعارف کرائی گئی نئی اسکیم کا بھی ذکر کرتے ہوئے کہا کہ تاجروں کو سہولت فراہم کرنا حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے۔ انہوں نے ایف بی آر کو ہدایت کی کہ کاروباری افراد کو غیرضروری طور پر ہراساں نہ کیا جائے اور خلاف ورزی کی صورت میں ذمہ دار اہلکاروں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔

شہباز شریف کے مطابق حکومت نے معیشت میں استحکام لانے کے لیے مختلف اقدامات کیے ہیں اور عوام کو ریلیف فراہم کرنے کے مقصد سے 128 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ملکی معیشت میں بتدریج بہتری کے آثار نظر آرہے ہیں اور توقع ہے کہ آنے والے دنوں میں صورتحال مزید بہتر ہوگی۔

وزیراعظم نے ڈیزل کی قیمت میں کمی کو بھی مثبت پیش رفت قرار دیا اور کہا کہ اس سے عوام کو کچھ ریلیف ملنے کی امید ہے۔

انہوں نے کہا کہ خطے میں جاری کشیدگی کے باعث تیل کی فراہمی کو مشکلات درپیش ہیں، اس لیے علاقائی حالات میں بہتری پاکستان کی معیشت اور توانائی کی ضروریات کے لیے انتہائی اہم ہے۔