پٹرولیم قیمتوں میں عوام کو ریلیف دیا جائے، لیوی ختم کی جائے.حافظ نعیم الرحمان

امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں پر حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ مہنگے پٹرول کے باعث عوام شدید مشکلات کا سامنا کررہے ہیں، جبکہ حکومت ایندھن سے بھاری ٹیکس وصول کررہی ہے۔

اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمان نے دعویٰ کیا کہ پٹرولیم مصنوعات پر مجموعی طور پر تقریباً 8 ہزار ارب روپے ٹیکس وصول کیا جارہا ہے۔ ان کے مطابق ایک لیٹر پٹرول پر تقریباً 130 روپے ٹیکس اور 80 روپے لیوی عائد ہے، جس کا بوجھ براہ راست عوام پر پڑ رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے مختلف پروگراموں میں زرعی ٹیکس عائد کرنے کی بات کی جاتی ہے، تاہم ان کے خیال میں یہ ٹیکس بڑے زرعی رقبے کے مالکان پر عائد ہونا چاہیے، خصوصاً ان افراد پر جن کے پاس 100 ایکڑ سے زیادہ زمین ہو۔

امیر جماعت اسلامی نے خبردار کیا کہ اگر حکومت پٹرولیم لیوی کے معاملے پر اپنے مؤقف سے پیچھے نہ ہٹی تو جماعت اسلامی اپنی احتجاجی سرگرمیوں کو مزید وسعت دے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ لیوی ختم کرنے کی صورت میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں 200 سے 250 روپے فی لیٹر تک آنے کا امکان ہے۔

حافظ نعیم الرحمان نے جماعت اسلامی کے احتجاجی پروگرام کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ پشاور میں ہونے والے احتجاج میں بڑی تعداد میں شہری شریک ہوئے، جبکہ دھرنوں میں تاجر، علماء، نوجوان اور سول سوسائٹی کے نمائندے بھی حصہ لے رہے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ وہ لاہور جاکر احتجاجی دھرنے میں دوبارہ شریک ہوں گے، جس کے بعد کراچی اور دیگر شہروں میں بھی احتجاجی کیمپ قائم کیے جائیں گے۔

امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ حکومت نے جماعت اسلامی کو اسلام آباد آکر مذاکرات کی پیشکش کی تھی، تاہم ان کی جماعت کا مؤقف ہے کہ مذاکرات احتجاجی دھرنے کے مقام پر ہی ہونے چاہئیں۔

حافظ نعیم الرحمان نے مزید کہا کہ اگر ضرورت پڑی تو جماعت اسلامی کے پاس اسلام آباد کی جانب احتجاجی پیش قدمی کا آپشن بھی موجود ہے اور ملک کے مختلف حصوں سے لوگ پیدل مارچ کی صورت میں وفاقی دارالحکومت پہنچ سکتے ہیں۔