امریکی سپریم کورٹ کی عارضی اجازت، وائٹ ہاؤس بال روم کی تعمیر جاری رہے گی
امریکی سپریم کورٹ نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی وائٹ ہاؤس بال روم منصوبے سے متعلق نچلی عدالت کے حکم کو عارضی طور پر روک دیا ہے، جس کے بعد منصوبے پر تعمیراتی کام فی الحال جاری رکھنے کی اجازت مل گئی ہے۔
عدالت کا یہ اقدام ایک انتظامی حکم (administrative stay) ہے، یعنی منصوبے کے قانونی تنازع کا حتمی فیصلہ ابھی نہیں ہوا۔ معاملہ تاریخی عمارت کے تحفظ اور صدر کے اختیارات سے متعلق قانونی بحث کا حصہ ہے۔
رپورٹس کے مطابق منصوبے کا تقریباً 65 فیصد کام مکمل ہوچکا ہے۔ امریکی انتظامیہ نے منصوبے کو سکیورٹی کے تناظر میں اہم قرار دیا ہے اور اس میں محفوظ و زیرِ زمین سکیورٹی سہولیات بھی شامل ہونے کا مؤقف اختیار کیا ہے۔
منصوبے کی لاگت کے حوالے سے امریکی حکام نے اسے تقریباً 400 ملین ڈالر کا منصوبہ قرار دیا ہے، تاہم بعض رپورٹس میں مجموعی لاگت اس سے زیادہ بھی بتائی گئی ہے۔
صدر ٹرمپ نے عدالتی پیش رفت کا خیرمقدم کیا ہے اور مؤقف اختیار کیا ہے کہ منصوبہ وائٹ ہاؤس کی سکیورٹی اور قومی سلامتی کے لیے اہم ہے۔ تاہم سپریم کورٹ کی جانب سے صرف عارضی ریلیف دیا گیا ہے اور منصوبے کے مستقبل کا حتمی فیصلہ بعد کی عدالتی کارروائی سے ہوگا۔