صحت کے معاملے کو سیاسی تنازع نہ بنایا جائے.عطا اللہ تارڑ

وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے کہا ہے کہ حکومت صحت سے متعلق معاملات کو سیاسی بحث کا حصہ بنانے کے خلاف ہے۔ ان کے مطابق اپوزیشن میں رہتے ہوئے بھی ان کی جماعت کا مؤقف یہی تھا کہ کسی فرد کی صحت پر سیاست نہیں ہونی چاہیے اور حکومت میں آنے کے بعد بھی یہی پالیسی برقرار ہے، تاہم بقول ان کے بعض حلقوں کی جانب سے اس معاملے پر غلط معلومات پھیلائی جارہی ہیں۔

اسلام آباد میں گفتگو کرتے ہوئے عطا تارڑ نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان ماضی میں دیگر افراد کی صحت کے معاملات پر تنقیدی اور تضحیک آمیز گفتگو کرتے رہے، لیکن حکومت نے ان کے طبی معاملے میں ایسا رویہ اختیار نہیں کیا۔ ان کے مطابق سپریم کورٹ کے حکم کے بعد عدالتی ہدایات پر عمل کرتے ہوئے عمران خان کا طبی معائنہ کرایا گیا، جس کے دوران ان کے خاندان کے ایک فرد اور شفا انٹرنیشنل اسپتال کے ماہر ڈاکٹرز بھی موجود تھے۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ حکومت نے عدالتی حکم کی تمام متعلقہ شرائط پوری کرتے ہوئے طبی معائنے کا انتظام کیا۔ ان کے مطابق نظرثانی درخواست کا مقصد یہ وضاحت حاصل کرنا تھا کہ عدالت کی جانب سے دی گئی طبی سہولت کا اطلاق صرف ایک قیدی پر ہوتا ہے یا دیگر قیدی بھی اس کے حقدار ہیں۔

عطا تارڑ نے پی ٹی آئی کی جانب سے توہین عدالت کی درخواست پر بھی اعتراض کرتے ہوئے اسے بے بنیاد قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت نے عدالت کی ہدایت کے مطابق تمام ضروری اقدامات مکمل کیے اور اس حوالے سے حقائق بھی عوام کے سامنے رکھے۔

انہوں نے الزام عائد کیا کہ شفا انٹرنیشنل اسپتال کے باہر لوگوں کے اجتماعات اور سیاسی سرگرمیاں عدالتی ہدایات کی روح کے منافی تھیں۔ ان کے مطابق اگر کسی فریق کو طبی سہولت کے حصول کا مطالبہ تھا تو اس معاملے کو سیاسی اجتماع اور بیان بازی میں تبدیل نہیں کیا جانا چاہیے تھا۔

وفاقی وزیر اطلاعات نے مزید الزام لگایا کہ پی ٹی آئی اور عمران خان کے بعض قریبی حلقوں نے خود طبی معاملے میں رکاوٹیں پیدا کیں۔ ان کے مطابق ایک جانب علاج کا مطالبہ کیا گیا جبکہ دوسری جانب سیاسی سرگرمیوں اور دیگر اقدامات کے ذریعے صورتحال کو متنازع بنانے کی کوشش کی گئی۔

عطا تارڑ نے بار کونسلز سے بھی اپیل کی کہ وہ اس معاملے کو سیاسی سرگرمیوں سے الگ رکھیں۔ انہوں نے کہا کہ بعض وکلا کی جانب سے جاری کیے گئے بیانات اور اعلامیے سیاسی نوعیت رکھتے ہیں اور بار کونسلز کو اس تنازع میں فریق نہیں بننا چاہیے۔

وفاقی وزیر کے مطابق پمز اسپتال میں عمران خان کا طبی معائنہ عدالتی ہدایات کے تحت ہوا اور حکومت نے سپریم کورٹ کے حکم کی ہر متعلقہ شق پر عملدرآمد یقینی بنایا ہے۔