امریکی عدالت نے 75 ممالک کے شہریوں کے امیگرنٹ ویزا روکنے کی پالیسی ختم کردی
امریکا کی ایک وفاقی عدالت نے حکومت کی جانب سے پاکستان سمیت 75 ممالک کے شہریوں کے امیگرنٹ ویزا جاری کرنے کا عمل معطل کرنے کے فیصلے کو ختم کردیا ہے۔ اس حکم کے بعد ان ممالک سے تعلق رکھنے والے ایسے افراد کے ویزا کیسز پر دوبارہ کارروائی کی راہ ہموار ہوگئی ہے جو مستقل طور پر امریکا منتقل ہونا چاہتے ہیں۔
فیصلے کو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی امیگریشن پالیسی کے لیے ایک بڑا قانونی دھچکا قرار دیا جارہا ہے۔ جنوبی ضلع نیویارک کی وفاقی عدالت کی جج جینیٹ ورگاس نے پالیسی کو قانون سے متصادم قرار دیتے ہوئے کہا کہ اسے نافذ کرنے میں امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے اپنے قانونی اختیارات کی حدود سے تجاوز کیا۔
یہ پالیسی 21 جنوری 2026 سے نافذ کی گئی تھی، جس کے تحت 75 ممالک سے تعلق رکھنے والے امیگرنٹ ویزا درخواست گزاروں کو ویزا جاری کرنے کا عمل روک دیا گیا تھا۔ متاثرہ ممالک میں پاکستان کے علاوہ افغانستان، بنگلادیش، برازیل، مصر، ایران، عراق، نائجیریا، صومالیہ، تھائی لینڈ اور یمن سمیت متعدد دیگر ریاستیں شامل تھیں۔ امریکی محکمہ خارجہ نے اس اقدام کی وجہ ایسے ممالک سے آنے والے تارکین وطن کے ممکنہ طور پر سرکاری مراعات پر انحصار اور عوامی وسائل پر بوجھ بننے کے خدشات کو قرار دیا تھا۔
عدالت نے قرار دیا کہ کسی درخواست گزار کا امیگرنٹ ویزا صرف اس بنیاد پر مسترد نہیں کیا جاسکتا کہ وہ کسی مخصوص ملک کا شہری یا وہاں پیدا ہوا ہے۔ فیصلے کے تحت صرف اسی پالیسی کی بنیاد پر کیے گئے ویزا انکار کے احکامات بھی کالعدم قرار دیے گئے ہیں۔
امریکی حکومت کے پاس اس عدالتی فیصلے کے خلاف اپیل کا حق موجود ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ اس سے قبل غیر قانونی امیگریشن روکنے اور ملک بدری کے عمل کو تیز کرنے کے لیے مختلف اقدامات کرتی رہی ہے۔
دستیاب سرکاری معلومات کے مطابق اس پالیسی میں شامل 75 ممالک میں افغانستان، البانیہ، الجزائر، آذربائیجان، بنگلادیش، برازیل، کیمرون، کولمبیا، مصر، ایتھوپیا، گھانا، گنی، ہیٹی، ایران، عراق، جمیکا، اردن، قازقستان، کویت، لبنان، لیبیا، مراکش، نیپال، نائجیریا، پاکستان، روس، روانڈا، صومالیہ، سوڈان، شام، تنزانیہ، تھائی لینڈ، تیونس، یوگنڈا، ازبکستان اور یمن سمیت دیگر ممالک شامل تھے۔