میر رضا قتل کیس، سندھ کابینہ کا جوڈیشل کمیشن بنانے کا فیصلہ
سندھ کابینہ نے کراچی کے نوجوان تاجر میر رضا کے قتل کی تحقیقات کے لیے جوڈیشل کمیشن قائم کرنے کی منظوری دے دی ہے۔ کمیشن کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ تشکیل کے 30 روز کے اندر اپنی رپورٹ، نتائج اور سفارشات صوبائی حکومت کے حوالے کرے۔
حکومت نے یہ فیصلہ میر رضا کے اہلخانہ کی درخواست کے بعد کیا۔ سندھ حکومت نے چیف جسٹس سندھ ہائیکورٹ سے بھی رابطہ کرتے ہوئے کمیشن کی سربراہی کے لیے کسی حاضر سروس جج کو نامزد کرنے کی درخواست کی ہے۔
وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کے مطابق جوڈیشل کمیشن کا مقصد کیس کی شفاف اور غیرجانبدارانہ تحقیقات یقینی بنانا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ کمیشن کو مزید تفتیش اور ضرورت پڑنے پر فرانزک تجزیے کی سفارش کرنے کا اختیار بھی حاصل ہوگا۔
وزیراعلیٰ نے تمام متعلقہ سرکاری اداروں، محکموں اور افسران کو کمیشن کے ساتھ مکمل تعاون کرنے کی ہدایت کی ہے تاکہ تحقیقات مقررہ دائرہ کار کے مطابق مکمل کی جاسکیں۔
دوسری جانب پولیس نے میر رضا کے نام پر رجسٹرڈ موبائل سم بھی حاصل کرلی ہے، جس کی ملکیت اب ان کی والدہ کے نام منتقل کردی گئی ہے۔ حکام کے مطابق تفتیش کے سلسلے میں میر رضا کے واٹس ایپ اکاؤنٹ تک رسائی حاصل کرنے کی کوشش بھی کی جائے گی۔
اہلخانہ نے جوڈیشل کمیشن پر تحفظات کا اظہار کردیا
میر رضا کے اہلخانہ نے سندھ حکومت کی جانب سے قائم کیے گئے جوڈیشل کمیشن کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ انہوں نے جے آئی ٹی تشکیل دینے کا مطالبہ کیا تھا۔ میر رضا کی بہن کے مطابق حکومت نے کمیشن بنانے سے قبل خاندان سے مشاورت نہیں کی۔
اہلخانہ نے سوال اٹھایا کہ پولیس کی تفتیشی رپورٹ سامنے آنے سے پہلے جوڈیشل کمیشن بنانے کی ضرورت کیوں پیش آئی اور یہ فیصلہ کن بنیادوں پر کیا گیا۔
میر رضا کے وکیل جبران ناصر نے کہا کہ پولیس آئندہ روز مجسٹریٹ کے سامنے تفتیشی رپورٹ پیش کرنے والی ہے، اس لیے یہ وضاحت ضروری ہے کہ سندھ حکومت نے رپورٹ آنے سے قبل عدالتی کمیشن کیوں بنایا۔ انہوں نے سوال کیا کہ آیا حکومت پولیس کی تحقیقات کے نتائج سے پہلے ہی اختلاف رکھتی ہے۔
جبران ناصر کے مطابق مقتول کے خاندان کو اعتماد میں لیے بغیر کمیشن تشکیل دیا گیا جبکہ اس کی تحقیقات کی شرائط (ٹی او آرز) بھی ابھی تک عوام کے سامنے نہیں لائی گئیں۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کو شامل کرکے مشترکہ تحقیقاتی ٹیم تشکیل دی جائے اور پولیس افسران کے مبینہ غیرقانونی یا مجرمانہ طرزِ عمل کی بھی چھان بین کی جائے۔
وکیل کا کہنا تھا کہ میر رضا کا خاندان جے آئی ٹی کے قیام کے لیے ہائی کورٹ سے رجوع کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔