فریال گوہر کے الزامات پر جمال شاہ کا ردعمل، تمام دعووں کی تردید
اداکارہ فریال گوہر نے اپنے سابق شوہر اور اداکار جمال شاہ پر ازدواجی زندگی کے دوران مبینہ جسمانی تشدد، حمل ضائع ہونے اور مختلف پابندیاں عائد کیے جانے جیسے سنگین الزامات عائد کیے ہیں۔ دوسری جانب جمال شاہ نے ان تمام دعوؤں کو مسترد کردیا ہے۔
فریال گوہر کے مطابق شادی کے بعد انہیں کئی مواقع پر مبینہ تشدد کا سامنا کرنا پڑا۔ ان کا دعویٰ ہے کہ ایک موقع پر تشدد کی شدت کے باعث ان کا حمل ضائع ہوگیا، جبکہ بعد میں جڑواں بچوں کی توقع کے دوران بھی ایسا ہی واقعہ پیش آیا، جس کے بعد انہوں نے رشتہ ختم کرنے کا فیصلہ کیا۔
اداکارہ نے الزام عائد کیا کہ انہیں مبینہ طور پر چمڑے کے بیلٹ سے مارا جاتا تھا اور پیٹھ و گردوں پر لاتیں بھی ماری گئیں۔ ان کے مطابق گردوں کو پہنچنے والے نقصان کے باعث انہیں سرجری بھی کروانا پڑی۔
فریال گوہر نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ شادی کے دوران ان کی نقل و حرکت پر سخت پابندیاں تھیں۔ ان کے مطابق وہ گھر سے باہر معمول کی واک کے لیے بھی آزادانہ طور پر نہیں جاسکتی تھیں، جبکہ اپنی شناخت چھپانے کے لیے کبھی ساس کا برقع استعمال کرنا پڑتا اور بعض اوقات بند رکشے میں سفر کرنا پڑتا تھا۔
ان الزامات کے بعد جمال شاہ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر تفصیلی وضاحت جاری کرتے ہوئے فریال گوہر کے تمام دعووں کی تردید کردی۔ ان کا کہنا تھا کہ تقریباً پانچ برس پر محیط ازدواجی زندگی میں کسی قسم کا جسمانی تشدد نہیں ہوا اور دونوں نے باہمی طور پر مہذب انداز میں علیحدگی اختیار کی۔
حمل ضائع ہونے سے متعلق الزام پر جمال شاہ نے مؤقف اپنایا کہ 1985 میں پیش آنے والا واقعہ مبینہ تشدد کے باعث نہیں ہوا تھا بلکہ لاہور میں منیزہ ہاشمی کے گھر کتے کے کاٹنے کے ایک حادثے سے منسلک تھا۔
اداکار کے مطابق وہ 1986 سے 1988 تک لندن کے سلیڈ کالج آف آرٹس میں تعلیم حاصل کررہے تھے اور اس عرصے میں بچوں کی منصوبہ بندی نہیں کی گئی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ اسی وجہ سے بعد میں بیان کیے گئے ایک اور حمل کے دعوے کی بھی ان کے مطابق کوئی بنیاد نہیں بنتی۔
جمال شاہ نے کہا کہ لوگ فریال گوہر کی حالیہ باتوں کے بارے میں اپنی رائے قائم کرنے میں آزاد ہیں، تاہم وہ خود اس معاملے پر مزید تبصرہ کرنے سے گریز کریں گے۔