مردوں اور خواتین میں عمر بڑھنے کا عمل مختلف، نئی تحقیق میں اہم انکشاف
چین میں ہونے والی ایک نئی سائنسی تحقیق کے مطابق مردوں اور خواتین میں بڑھتی عمر کے ساتھ جسم میں آنے والی تبدیلیاں ایک جیسی نہیں ہوتیں، اور ان فرقوں کا اندازہ معمول کے طبی معائنے اور خون کے ٹیسٹ سے بھی لگایا جاسکتا ہے۔
بین الاقوامی جریدے ’’نیچر ایجنگ‘‘ میں شائع ہونے والی اس تحقیق میں چین کے مختلف علاقوں سے تعلق رکھنے والے 18 سے 98 سال کی عمر کے ایک لاکھ 4 ہزار سے زیادہ افراد کے طبی اور صحت سے متعلق اعداد و شمار کا جائزہ لیا گیا۔
محققین نے جسمانی وزن، کولیسٹرول، خون میں گلوکوز کی مقدار اور دیگر عوامل سمیت مجموعی طور پر 172 طبی اشاریوں کا تجزیہ کیا۔ انہی معلومات کی بنیاد پر ایک خصوصی ’’ایجنگ کلاک‘‘ تیار کی گئی، جس کا مقصد عمر بڑھنے کے دوران جسم میں ہونے والی نمایاں تبدیلیوں کی نشاندہی کرنا تھا۔
تحقیق میں بتایا گیا کہ مردوں میں عمر رسیدگی سے متعلق نمایاں تبدیلیوں کا ایک اہم مرحلہ 35 سے 45 سال کے درمیان سامنے آتا ہے۔ محققین نے اس کے علاوہ مردوں اور خواتین میں بڑھاپے کے مختلف ادوار اور جسمانی تبدیلیوں کے الگ الگ مراحل کی بھی نشاندہی کی۔
تحقیق کے نتائج سے ظاہر ہوتا ہے کہ عمر بڑھنے کا عمل دونوں جنسوں میں مختلف انداز سے آگے بڑھ سکتا ہے، جس سے مستقبل میں عمر سے متعلق بیماریوں اور صحت کی نگرانی کے لیے مزید مخصوص طریقہ کار اختیار کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔