سپریم کورٹ کا بھارت سے ہجرت کرکے آنے والی بیوہ کے حق میں اہم فیصلہ
سپریم کورٹ نے بھارت سے ہجرت کرکے پاکستان آنے والی ایک بیوہ خاتون کے حق میں فیصلہ دیتے ہوئے پاکستان میں اسے الاٹ کی گئی زمین پر اس کا حق تسلیم کرلیا اور مخالف فریقین کے دعوے مسترد کردیے۔
سپریم کورٹ کے جسٹس جمال خان مندوخیل نے کیس کا تحریری فیصلہ جاری کیا، جس میں عدالت نے ٹرائل کورٹ کا سال 2000 کا فیصلہ اور ہائیکورٹ کا 2014 کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا۔
عدالت عظمیٰ نے اپنے فیصلے میں قرار دیا کہ یہ بات تسلیم شدہ ہے کہ عبدالکریم قیامِ پاکستان سے قبل ہی انتقال کرچکے تھے، جبکہ ان کی بیوہ نے پاکستان میں مستقل سکونت اختیار کرنے کے لیے اپنی ذات کی بنیاد پر زمین کی الاٹمنٹ کی درخواست دی تھی۔
فیصلے کے مطابق جس اراضی پر مخالف فریقین نے اپنے حصے کا دعویٰ کیا، وہ زمین کبھی بھی عبدالکریم کی ملکیت نہیں رہی تھی۔
سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ متنازع جائیداد ایک بے گھر ہوکر ہجرت کرنے والی بیوہ خاتون کے نام الاٹ کی گئی تھی، جبکہ مخالف فریقین نے خود بھارت سے ہجرت کرکے پاکستان آنے کا دعویٰ نہیں کیا۔
عدالت نے مزید واضح کیا کہ مرحوم عبدالکریم کے رشتہ دار کا جائیداد سے متعلق دعویٰ صرف بھارت میں چھوڑی گئی املاک کی حد تک ہوسکتا ہے۔
سپریم کورٹ نے اپنے تحریری فیصلے میں ٹرائل کورٹ کے 2000 اور ہائیکورٹ کے 2014 کے فیصلوں کو منسوخ کرتے ہوئے بیوہ خاتون کے حق میں الاٹ کی گئی جائیداد سے متعلق دعویٰ برقرار رکھا۔