پاکستان کی سعودی عرب پر حوثی حملوں کی مذمت، فلسطین اور کشمیر کے معاملے پر بھی مؤقف دہرایا

پاکستان نے سعودی عرب پر حوثی ملیشیا کی جانب سے کیے گئے حملوں کی سخت مذمت کرتے ہوئے سعودی عوام اور حکومت کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کیا ہے۔

ہفتہ وار میڈیا بریفنگ کے دوران ترجمان دفتر خارجہ سجاد حیدر خان نے کہا کہ پاکستان سعودی عرب کی خودمختاری، سلامتی اور علاقائی سالمیت کے احترام اور حمایت کے اپنے مؤقف پر قائم ہے اور برادر اسلامی ملک کے ساتھ تعاون جاری رکھے گا۔

ترجمان نے غزہ کی صورتحال پر بھی پاکستان کا مؤقف واضح کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان سمیت متعدد عرب اور اسلامی ممالک کے وزرائے خارجہ نے فلسطینیوں کی غزہ سے جبری بے دخلی سے متعلق اسرائیلی بیانات اور تجاویز کو مسترد کردیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان ممالک نے ایک آزاد اور خودمختار فلسطینی ریاست کے قیام کی حمایت کا اعادہ کیا ہے۔

سجاد حیدر خان نے بھارت کے شہر سہارنپور میں ایک قدیم مسجد کے انہدام کی بھی شدید مذمت کی اور اسے مذہبی آزادی کے اصولوں کے منافی قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان 5 ستمبر کو مسجد مسمار کیے جانے کے واقعے پر تشویش رکھتا ہے اور تمام مذاہب کے مقدس مقامات اور مذہبی آزادیوں کا احترام ضروری ہے۔

ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ پاکستان بھارت کی جانب سے یکطرفہ اقدامات کے ذریعے جموں و کشمیر کی متنازع حیثیت تبدیل کرنے کی کسی بھی کوشش کو تسلیم نہیں کرتا۔

انہوں نے کشمیری رہنما یاسین ملک کے خلاف قائم مقدمات پر بھی پاکستان کے تحفظات کا اظہار کیا۔ سجاد حیدر خان کے مطابق یاسین ملک کی جانب سے پیش کیا گیا بیانِ حلفی بھارتی عدالتی نظام سے متعلق سنگین سوالات اٹھاتا ہے۔

پاکستان نے عالمی انسانی حقوق کی تنظیموں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ یاسین ملک کی صحت اور ان کے حالات کا جائزہ لیں۔

ترجمان دفتر خارجہ نے مزید بتایا کہ گلوبل گورننس انیشی ایٹو چین کا ایک اہم منصوبہ ہے، جس میں پاکستان بھی شامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اس فریم ورک کے تحت چین کے ساتھ تعاون اور مشترکہ کام جاری رکھنے کے لیے تیار ہے۔