رانا ثناء اللہ کا نئے صوبوں کے قیام پر پارلیمنٹ کے فیصلے کو حتمی قرار دینے کا بیان

وزیراعظم کے مشیر اور سینیٹر رانا ثناء اللہ نے کہا ہے کہ نئے صوبوں کے قیام یا عدم قیام کا حتمی فیصلہ پارلیمنٹ ہی کرے گی، اس لیے کسی حکومتی نمائندے کی جانب سے اس معاملے پر حتمی رائے دینا پارلیمنٹ کو نظرانداز کرنے کے مترادف ہوگا۔

میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے رانا ثناء اللہ نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) نئے صوبوں کے معاملے پر جب بھی کوئی فیصلہ کرے گی تو اس سے متعلق مؤقف عوام کے سامنے واضح کردیا جائے گا۔ ان کے مطابق پیپلز پارٹی نے اس معاملے پر اپنا مؤقف پیش کردیا ہے، تاہم ان کے خیال میں اس حوالے سے ردعمل ضرورت سے زیادہ رہا۔

انہوں نے کہا کہ اگر نئے صوبوں کے قیام کے لیے ریفرنڈم کی تجویز زیر غور آتی ہے تو اس کی اجازت دینے کا اختیار بھی پارلیمنٹ کے پاس ہوگا۔ ان کے بقول صوبوں کے معاملے پر بحث اور فیصلہ پارلیمانی فورم ہی پر ہونا چاہیے۔

رانا ثناء اللہ نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کے درمیان بعض معاملات پر اختلافات موجود ہیں، تاہم ان مسائل کو بات چیت کے ذریعے حل کیا جاسکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ نئے صوبوں کے معاملے پر مسلم لیگ (ن) کے اندر بھی مشاورت جاری ہے اور مناسب وقت پر پارٹی اپنا مؤقف پارلیمنٹ میں پیش کرے گی۔

وزیراعظم کے مشیر نے کہا کہ پنجاب اسمبلی قانون میں ترمیم کرسکتی ہے۔ ان کے مطابق بلدیاتی اداروں کو عوام کے قریب رکھنے کی ضرورت ہے اور بڑے شہروں میں میونسپل اداروں کو مزید اختیارات دینے کی گنجائش موجود ہے۔

پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے حوالے سے رانا ثناء اللہ نے کہا کہ عالمی سطح پر پیدا ہونے والی صورتحال، خصوصاً امریکا اور ایران کے درمیان جنگ، قیمتوں میں اضافے کی ایک بڑی وجہ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان نے کشیدگی کم کرنے اور جنگ روکنے کے لیے سفارتی کوششیں کی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پیٹرولیم قیمتوں میں اضافے کا ذمہ دار پاکستان نہیں، جبکہ حکومت صورتحال کا جائزہ لے رہی ہے۔ رانا ثناء اللہ کے مطابق جماعت اسلامی کا مہنگائی اور پیٹرول کی قیمتوں کے خلاف احتجاج ایک الگ سیاسی معاملہ ہے اور جماعت کو پرامن و آئینی طریقے سے احتجاج کا حق حاصل ہے۔

انہوں نے بتایا کہ حکومت نے جماعت اسلامی سے احتجاج یا دھرنا دو ہفتوں کے لیے مؤخر کرنے کی درخواست کی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پیٹرول کی قیمتوں میں کمی کی خواہش حکومت کو بھی ہے اور اس معاملے پر سنجیدگی سے غور کیا جارہا ہے۔

رانا ثناء اللہ نے بعض احتجاجی سرگرمیوں کے حوالے سے ممکنہ سیکیورٹی خدشات کا بھی ذکر کیا۔ ان کے مطابق ایسی اطلاعات سامنے آئی ہیں کہ بعض اجتماعات میں مسلح افراد کی موجودگی کا امکان ہوسکتا ہے، جس کے باعث سیکیورٹی صورتحال کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔

انہوں نے کہا کہ ملک کی سیاسی قیادت وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل کی قیادت میں ملکی ترقی کے لیے یکجا ہے۔ ان کے مطابق امریکا اور ایران کے درمیان جنگ نہ ہوتی تو ملک میں معاشی ترقی کے اثرات مزید نمایاں ہوتے۔

9 مئی کے واقعات پر بات کرتے ہوئے رانا ثناء اللہ نے تحریک انصاف کو تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ پارٹی کو ان واقعات پر معذرت کرنی چاہیے تھی۔ انہوں نے یہ بھی الزام عائد کیا کہ بلوچستان اور خیبرپختونخوا میں دہشت گردی میں ملوث عناصر موجودہ صورتحال سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کرسکتے ہیں۔

وزیراعظم کے مشیر نے اپوزیشن کے وزیراعظم آفس سے متعلق مؤقف پر بھی ردعمل دیا اور کہا کہ وزیراعظم آفس ریاستی ادارے کی عمارت ہے، اسے کسی ایک جماعت یا شخصیت سے منسوب نہیں کیا جانا چاہیے۔

رانا ثناء اللہ نے کہا کہ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کے درمیان اختلافات کو پارلیمانی سطح پر زیر بحث لانا زیادہ مناسب ہوگا۔ ان کے مطابق وزرا کی تقاریر یا میڈیا بیانات کے بجائے پارلیمنٹ میں تمام سیاسی جماعتوں کو اپنا مؤقف پیش کرنے کا موقع ملنا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ نئے صوبوں کے معاملے پر مسلم لیگ (ن) بحث کا حصہ بنے گی اور وزیراعظم بھی اس حوالے سے اپنا مؤقف پیش کریں گے۔ ان کے مطابق چونکہ وفاق اور پنجاب دونوں میں مسلم لیگ (ن) کی حکومت ہے، اس لیے اس معاملے پر کوئی بھی حتمی پیش رفت متعلقہ آئینی اور پارلیمانی طریقہ کار کے تحت ہی ہوگی۔