پیرس میں پاکستان کی کپاس اور ٹیکسٹائل کی ہزاروں سالہ تاریخ پر کانفرنس

پیرس میں پاکستانی سفارتخانے کے زیرِ اہتمام ’’سوتی دھاگہ: پاکستان میں کپاس کی ثقافت کی ہزاروں سالہ تاریخ‘‘ کے عنوان سے کانفرنس منعقد ہوئی، جس میں سفارت کاروں، یونیسکو کے نمائندوں، فرانسیسی ٹیکسٹائل صنعت سے وابستہ افراد اور فیشن ڈیزائنرز نے شرکت کی۔

کانفرنس کے دوران پاکستان میں کپاس کی قدیم کاشت، ٹیکسٹائل سے جڑی روایات اور اس شعبے کے عالمی فیشن اور ٹیکسٹائل صنعت تک پہنچنے کے سفر کا جائزہ لیا گیا۔

پاکستانی سفارتخانے کے مطابق تقریب سے خطاب کرتے ہوئے فرانس میں پاکستانی سفیر ممتاز زہرا بلوچ نے کہا کہ موجودہ پاکستان کے خطے میں کپاس کی کاشت اور استعمال کی تاریخ تقریباً 7 ہزار سال قبل تک جاتی ہے۔ انہوں نے قدیم دور سے ٹیکسٹائل روایات کو آگے بڑھانے میں کسانوں، سوت کاتنے والے کاریگروں اور بنکروں کے کردار کو بھی اجاگر کیا۔

ممتاز زہرا بلوچ کا کہنا تھا کہ کپاس جب مختلف خطوں اور براعظموں تک پہنچی تو اس کے ساتھ تجارتی فوائد کے علاوہ علم، ہنرمندی اور ثقافتی روابط بھی منتقل ہوئے۔ ان کے مطابق ٹیکسٹائل اور ملبوسات کا شعبہ آج بھی پاکستان کی مینوفیکچرنگ اور برآمدی معیشت میں نمایاں مقام رکھتا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ فیصل آباد کی اسپننگ ملز سے لے کر کراچی اور لاہور کے ایکسپورٹ ہاؤسز تک بڑی تعداد میں افراد ٹیکسٹائل صنعت سے وابستہ ہیں۔ سفیر کے مطابق پاکستان میں کپاس کو صرف زرعی پیداوار یا برآمدی شے کے طور پر نہیں دیکھا جاتا بلکہ یہ ملک کے ثقافتی ورثے کا بھی اہم حصہ ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ سوت کاتنے، کپڑا بُننے، کڑھائی اور دیگر ٹیکسٹائل ہنر سے متعلق روایات آج بھی مختلف نسلوں تک منتقل ہورہی ہیں، جن کا تعلق یونیسکو کے غیر مادی ثقافتی ورثے کے تصور سے بھی جڑتا ہے۔

تقریب میں سنبرگ کی بانی اور سرکل ڈیس امیز دو پاکستان گروپ کی صدر فریڈریکا سنڈبرگ نے بھی پاکستان کے ٹیکسٹائل شعبے سے متعلق اپنے تجربات اور معلومات کا اظہار کیا۔ انہوں نے وادیٔ سندھ میں کپاس کی قدیم تاریخ سے لے کر موجودہ دور کی ٹیکسٹائل صنعت تک اس شعبے کی ترقی کا جائزہ لیتے ہوئے پاکستان کی برآمدی صلاحیت پر روشنی ڈالی۔

ماہر آثارِ قدیمہ اور وادیٔ سندھ میں فرانسیسی آثارِ قدیمہ مشن کی سابق شریک ڈائریکٹر کیتھرین جیرج نے قدیم پاکستان میں کپاس کی کاشت کے شواہد پر گفتگو کی۔ ان کے مطابق آثارِ قدیمہ سے حاصل ہونے والے شواہد اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ وادیٔ سندھ کی تہذیب میں 7 ہزار سال سے بھی پہلے کپاس کاشت کی جاتی تھی اور اس سے دھاگا بنانے اور کپڑا تیار کرنے کا کام لیا جاتا تھا۔

پاکستانی سفارتخانے کے مطابق کانفرنس کا انعقاد عوامی اور اقتصادی سفارت کاری کے سلسلے کی ایک کڑی کے طور پر کیا گیا، جس کا مقصد پاکستان کے کپاس اور ٹیکسٹائل شعبے کی تاریخی اہمیت، موجودہ معاشی کردار اور اس سے وابستہ ثقافتی ورثے کو عالمی سطح پر اجاگر کرنا تھا۔