یوکرین کا ماسکو کے قریب روسی تیل و رسد مراکز کو نشانہ بنانے کا دعویٰ
یوکرینی صدر نے دعویٰ کیا ہے کہ یوکرین کی فورسز نے ماسکو کے قریب روسی تیل کی صنعت کے ایک اہم مرکز اور فوجی رسد سے متعلق تنصیبات کو ڈرون حملوں کا نشانہ بنایا ہے۔
اپنے بیان میں یوکرینی صدر نے کہا کہ حملوں میں جن روسی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا ان کی مالیت اربوں ڈالر بتائی جاتی ہے۔ ان کارروائیوں کے لیے طویل فاصلے تک پرواز کرنے کی صلاحیت رکھنے والے ڈرونز استعمال کیے گئے۔
یوکرینی صدر نے روس پر زور دیا کہ وہ جنگ کے خاتمے کے لیے اقدامات کرے اور امن کی جانب پیش رفت کا راستہ اختیار کرے۔
دوسری جانب ماسکو کے میئر سرگئی سوبیانین نے کہا ہے کہ روسی فورسز نے یوکرین کی جانب سے آنے والے 1,600 سے زائد ڈرونز کو تباہ یا ناکارہ بنایا۔ ان کے مطابق تقریباً 450 ڈرونز ماسکو کی سمت بڑھ رہے تھے۔
روسی حکام کے مطابق ایک ڈرون 21 منزلہ عمارت سے ٹکرایا، جس کے نتیجے میں عمارت میں آگ بھڑک اٹھی۔ واقعے کے بعد تقریباً 400 افراد کو عمارت سے بحفاظت باہر نکال لیا گیا۔
روسی حکام نے الزام عائد کیا ہے کہ یوکرینی حملوں کا مقصد روس میں ہونے والے پارلیمانی انتخابات کے عمل میں خلل ڈالنا تھا۔