اسلام آباد میں پرتشدد جتھے کی اجازت نہیں ہوگی، راستے کھلے رہیں گے: عطا تارڑ

وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے کہا ہے کہ اسلام آباد میں کسی بھی پرتشدد گروہ کو داخل ہونے کی اجازت نہیں دی جائے گی اور حکومت، انتظامیہ، پولیس اور وزارت داخلہ اس معاملے پر واضح مؤقف رکھتی ہے۔

پریس کانفرنس کے دوران عطا تارڑ نے کہا کہ اسلام آباد ہائیکورٹ کی جانب سے سڑکیں بند کرنے اور شہریوں کی آمدورفت میں رکاوٹ ڈالنے کی اجازت نہیں دی گئی، لہٰذا انتظامیہ کی ذمہ داری ہے کہ شہر میں ٹریفک اور عوامی آمدورفت بلا تعطل جاری رہے۔

وفاقی وزیر اطلاعات نے وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے شروع کی گئی فیول ریلیف اسکیم کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ حکومت کی کوشش ہے کہ اس پیکیج کا فائدہ زیادہ سے زیادہ عام اور کم آمدنی والے شہریوں تک پہنچے۔

عطا تارڑ کے مطابق عوامی تجاویز کی روشنی میں اسکیم میں بعض تبدیلیاں کی گئی ہیں۔ موٹر سائیکلوں اور رکشوں کے لیے گاڑی کی عمر کی اہلیت 15 سال سے بڑھا کر 20 سال کردی گئی ہے، جبکہ یکم جنوری 2006 تک رجسٹرڈ گاڑیاں اور موٹر سائیکلیں اسکیم میں شامل ہوسکیں گی۔

انہوں نے بتایا کہ اسکیم سے فائدہ اٹھانے کے لیے کم از کم پانچ لیٹر پیٹرول خریدنے کی شرط بھی ختم کردی گئی ہے۔ موٹر سائیکل اور چنگ چی رکشہ صارفین کو ہفتے میں ایک مرتبہ، یعنی ماہانہ چار مرتبہ، ریلیف حاصل کرنے کی سہولت دی گئی ہے۔

وفاقی وزیر کے مطابق موٹر سائیکل یا چنگ چی رکشہ صارف اگر دو لیٹر پیٹرول خریدتا ہے تو اسے معمول کی قیمت کے بجائے 280 روپے ادا کرنا ہوں گے، جبکہ ہفتہ وار ریلیف کی حد 500 روپے تک ہوگی۔

عطا تارڑ نے مزید کہا کہ اس اسکیم میں ایسے شہریوں کو بھی شامل کیا گیا ہے جو اسمارٹ فون استعمال نہیں کرتے، تاکہ ڈیجیٹل سہولیات سے محروم افراد بھی حکومتی ریلیف سے فائدہ اٹھا سکیں۔