عطااللہ تارڑ کا اسلام آباد احتجاج پر سخت مؤقف

وفاقی وزیر اطلاعات عطااللہ تارڑ نے کہا ہے کہ حکومت کسی بھی گروہ کو اسلام آباد میں بدامنی یا تشدد کی اجازت نہیں دے گی۔ انہوں نے خیبرپختونخوا حکومت سے امن و امان اور ترقیاتی منصوبوں کے لیے مختص فنڈز کے استعمال کی تفصیلات بھی طلب کی ہیں۔

کوہاٹ میں گفتگو کرتے ہوئے عطااللہ تارڑ نے کہا کہ دہشتگردی کے حالیہ واقعے کے بعد شہر کی فضا سوگوار ہے۔ ان کے مطابق فوج اور پولیس کے افسران و اہلکاروں نے کارروائی میں بہادری کا مظاہرہ کیا، جبکہ چھٹی پر موجود پولیس اہلکار بھی واپس آکر دہشتگردوں کے خلاف آپریشن میں شریک ہوئے۔ انہوں نے زخمی اہلکاروں کے حوصلے کو سراہتے ہوئے کہا کہ سیکیورٹی فورسز دہشتگردی کے مکمل خاتمے تک کارروائیاں جاری رکھیں گی۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ دہشتگردی کے خلاف جنگ میں جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والوں کے عزم کو شکست دینا آسان نہیں۔ انہوں نے شہید اہلکار فہیم کے گھر جاکر ان کے اہل خانہ سے ملاقات کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ قوم سیکیورٹی اہلکاروں کی قربانیوں کو قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے۔

عطااللہ تارڑ نے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے سوال کیا کہ کوہاٹ میں دہشتگردی کا واقعہ پیش آنے کے وقت وہ کہاں تھے۔ ان کے بقول ایسے حالات میں سیاسی بیانات یا ویڈیوز بنانے کے بجائے زخمی اہلکاروں اور متاثرہ خاندانوں کے درمیان موجود ہونا چاہیے تھا۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ وزیراعلیٰ کے پاس احتجاج اور دھرنے کی تیاری کے لیے وقت ہے، لیکن صوبے میں دہشتگردی سے نمٹنے کے لیے مطلوبہ توجہ نہیں دی جا رہی۔

وفاقی وزیر نے خیبرپختونخوا حکومت سے امن و امان اور ترقیاتی فنڈز کے استعمال کا حساب مانگتے ہوئے کہا کہ صوبے کو انسداد دہشتگردی اور دیگر شعبوں کے لیے دستیاب وسائل کے بارے میں جواب دینا ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی حکومت کو اپنے طویل دورِ اقتدار کے دوران فنڈز کے استعمال اور ترقیاتی اقدامات سے متعلق بھی وضاحت دینی چاہیے۔

عطااللہ تارڑ نے پی ٹی آئی رہنما جنید اکبر کے حالیہ بیان پر بھی معافی کا مطالبہ کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ صوبائی حکومت کو دستیاب وسائل سوشل میڈیا سرگرمیوں کے بجائے عوامی مسائل اور انتظامی امور پر خرچ کرنے چاہئیں۔ انہوں نے فرانزک معاملات اور دیگر حکومتی اقدامات پر بھی سوالات اٹھائے اور کہا کہ صوبائی حکومت کو اپنے وسائل اور کارکردگی سے متعلق جواب دینا ہوگا۔

وفاقی وزیر اطلاعات نے واضح کیا کہ اسلام آباد آنے والے کسی بھی گروہ کو قانون ہاتھ میں لینے، اسلحہ یا ڈنڈوں کے ساتھ داخل ہونے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ ان کے مطابق حکومت شہریوں کے جان و مال اور معمولاتِ زندگی کے تحفظ کے لیے اقدامات کرے گی۔

عطااللہ تارڑ نے سہیل آفریدی کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اگر وہ صوبے کے معاملات مؤثر انداز میں نہیں چلا سکتے تو عہدہ چھوڑ دیں۔ انہوں نے پی ٹی آئی کے احتجاج کے ماضی کے واقعات کا حوالہ دیتے ہوئے الزام عائد کیا کہ جماعت کے احتجاج کئی مواقع پر پرتشدد صورت اختیار کرچکے ہیں، اس لیے حکومت ایسے کسی احتجاج کی اجازت نہیں دے گی جس سے شہریوں کی زندگی اور املاک متاثر ہوں۔