27 ستمبر کا لانگ مارچ ہوگا، احتجاج مکمل طور پر پرامن رکھنے کا اعلان

چیئرمین پاکستان تحریک انصاف بیرسٹر گوہر علی خان نے علامہ راجا ناصر عباس کی جانب سے مذاکرات کی تجویز کو مثبت پیش رفت قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر حکومت مذاکرات کے لیے کمیٹی تشکیل دیتی ہے تو پی ٹی آئی بھی بات چیت کے عمل کو آگے بڑھانے کے لیے تیار ہے۔

پارلیمنٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بیرسٹر گوہر نے کہا کہ پی ٹی آئی پرامن سیاسی جدوجہد پر یقین رکھتی ہے اور 27 ستمبر کو اسلام آباد کی جانب مارچ بھی پرامن انداز میں کیا جائے گا۔ ان کے مطابق مظاہرین کے ہاتھوں میں پاکستان کے قومی پرچم ہوں گے اور احتجاج کے دوران تشدد سے گریز کیا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ نہ کسی کو تشدد پر اکسانا چاہیے اور نہ ہی کسی قسم کا تشدد ہونا چاہیے۔ ان کا مطالبہ تھا کہ گرفتاریوں کا سلسلہ روکا جائے اور گرفتار ارکان پارلیمنٹ کو بھی رہا کیا جائے۔

بیرسٹر گوہر کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی نے سیاسی معاملات کو بات چیت کے ذریعے حل کرنے کی کوششیں ہمیشہ جاری رکھی ہیں اور مذاکرات کا دروازہ کبھی بند نہیں کیا۔ تاہم ان کے مطابق اگر انصاف فراہم نہ ہو، مطالبات پر پیش رفت نہ کی جائے اور عدالتی احکامات پر عملدرآمد نہ ہو تو سیاسی جماعت سے احتجاج ترک کرنے کی توقع نہیں کی جا سکتی۔

انہوں نے کہا کہ ملاقاتوں، طبی سہولیات اور دیگر معاملات کو حل کیے بغیر حالات میں بہتری ممکن نہیں۔ ان کے بقول جمہوری نظام میں بہتری صرف بیانات سے نہیں بلکہ عملی اقدامات سے آتی ہے، اس لیے حکومت کو ایسے اقدامات کرنے چاہئیں جن سے یہ اعتماد پیدا ہو کہ پی ٹی آئی کے مطالبات کو سنجیدگی سے لیا جا رہا ہے۔

چیئرمین پی ٹی آئی نے واضح کیا کہ 27 ستمبر کا لانگ مارچ شیڈول کے مطابق ہوگا اور اسلام آباد پہنچنے کے بعد بھی احتجاج کو پرامن رکھنے کی کوشش کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی نے مفاہمت کا راستہ بند نہیں کیا اور حکومت کے ساتھ رابطے بدستور موجود ہیں۔

بیرسٹر گوہر نے پارٹی کے بانی عمران خان کے خاندان کی خواتین اور کارکنوں سے متعلق حالیہ اقدامات پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ریاست کو اپنے فیصلوں پر نظرثانی کرنی چاہیے۔ ان کے مطابق موجودہ صورتحال سے ریاستی اداروں اور جمہوری عمل پر منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان اور اسلام آباد تمام شہریوں کے ہیں، اس لیے پی ٹی آئی کو ووٹ دینے والے افراد کے سیاسی راستے میں رکاوٹیں نہیں ڈالنی چاہئیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پارٹی نے مذاکرات سے کبھی انکار نہیں کیا اور بنیادی مطالبات پر پیش رفت تک سیاسی جدوجہد جاری رکھی جائے گی۔

بیرسٹر گوہر نے بتایا کہ حکومت کے ساتھ مذاکرات کے لیے پی ٹی آئی نے باقاعدہ کمیٹی تشکیل دے دی ہے، جس میں محمود خان اچکزئی، علامہ راجا ناصر عباس، اسد قیصر اور وہ خود شامل ہیں۔

انہوں نے کہا کہ مذاکراتی کمیٹی لانگ مارچ کے دوران بھی اسلام آباد میں موجود رہے گی اور اگر احتجاج کے دوران بات چیت کی ضرورت پیش آئی تو مذاکرات کیے جا سکتے ہیں۔

پی ٹی آئی چیئرمین کے مطابق احتجاج کے دوران قانون کی پاسداری اور پرامن سیاسی سرگرمی کو یقینی بنانے کی کوشش کی جائے گی۔ حالیہ رابطوں کے تناظر میں حکومت اور اپوزیشن کے درمیان مذاکرات کی کوششیں بھی جاری رہی ہیں، تاہم 27 ستمبر کے احتجاج کے حوالے سے حتمی فیصلہ برقرار ہے۔