امریکا اور ایران کے درمیان نیویارک میں مذاکرات
امریکا اور ایران کے وفود کے درمیان اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر نیویارک میں مذاکرات ہوئے، جن میں دونوں ممالک کے درمیان موجود اختلافات اور جوہری معاملے سمیت مختلف امور پر بات چیت کی گئی۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ امریکی نمائندوں اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر کی ایرانی حکام کے ساتھ ملاقات مثبت اور تعمیری رہی۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران کے ساتھ کسی معاہدے تک پہنچنے کی راہ میں ایک اہم رکاوٹ اب بھی موجود ہے اور امریکا ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دے سکتا۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران سے متعلق سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا کہ ایران کئی دہائیوں تک مشرق وسطیٰ میں ایک مسئلہ رہا، تاہم اب صورتحال مختلف ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگر ضرورت محسوس ہوئی اور ایران کی جانب سے جوہری سرگرمیوں سے متعلق کسی تنصیب کا معاملہ سامنے آیا تو امریکا اسے نشانہ بنانے پر غور کرسکتا ہے۔ ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ ان کے خیال میں ایران کے ساتھ جاری جنگ امریکی مڈٹرم انتخابات کے بعد ختم ہوسکتی ہے۔
دوسری جانب امریکی نمائندے اسٹیو وٹکوف نے بتایا کہ ایرانی وفد کے ساتھ ثالثوں کے ذریعے تفصیلی رابطہ اور بات چیت ہوئی۔ ان کے مطابق ثالثوں نے دن بھر دونوں ممالک کے وفود کے درمیان پیغامات کی ترسیل اور رابطہ برقرار رکھا، جبکہ مذاکرات کا ایک مرحلہ مکمل ہوچکا ہے۔ وٹکوف نے مذاکرات کے نتیجے کو تعمیری قرار دیتے ہوئے آئندہ پیش رفت کے حوالے سے امید کا اظہار کیا۔
ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان نے بھی امریکا کے ساتھ مذاکرات کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ امریکی نمائندوں سے ہونے والی گفتگو ثالثوں کے ذریعے ہوئی۔
ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر سے ملاقات کی، جس میں انہوں نے امریکا کے سامنے ایران کی جانب سے عائد کی جانے والی شرائط پیش کیں۔
رپورٹ کے مطابق آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے معاملے پر بھی ایرانی شرائط مذاکرات کا اہم حصہ رہیں۔ ایران کی جانب سے مؤقف اختیار کیا گیا کہ آبنائے ہرمز کھولنے کے لیے بحری ناکہ بندی فوری طور پر ختم کرنا ضروری ہے۔
ایرانی شرائط میں منجمد اثاثوں کی بحالی کے ساتھ ساتھ مختلف مزاحمتی محاذوں پر جاری جنگ کا خاتمہ بھی شامل بتایا گیا ہے۔