وزیراعظم شہباز شریف کا پاکستان کی معاشی صورتحال اور سرمایہ کاری پر اظہار خیال

وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ خلیج میں پیدا ہونے والا بحران ایسے وقت میں سامنے آیا جب پاکستان پہلے ہی ایک مشکل مرحلے سے گزر رہا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ دوست ممالک کے تعاون اور مشترکہ کوششوں سے خطے میں دیرپا امن کے قیام کی امید ہے، جبکہ پاکستان کی معیشت اب استحکام کی جانب بڑھتے ہوئے ترقی کے راستے پر گامزن ہے۔

پاکستان امریکا بزنس کونسل کے وفود سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ ملک میں وسیع پیمانے پر اصلاحات کا عمل جاری ہے۔ معیشت کو ڈیجیٹل بنانے کے ساتھ ٹیکنالوجی کے فروغ اور ای گورننس کے شعبوں پر بھی تیزی سے کام کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کو جلد نجی شعبے کے حوالے کرنے کا عمل آگے بڑھایا جائے گا۔

شہباز شریف نے کہا کہ حکومت کی بنیادی ذمہ داری نجی شعبے کے لیے کاروبار، سرمایہ کاری اور سازگار ماحول فراہم کرنا ہے۔ پاکستان میں موجود معاشی امکانات اور سرمایہ کاری کے مواقع پر سنجیدہ اور عملی گفتگو کا وقت آچکا ہے۔ ان کے مطابق نجکاری کا شعبہ بھی کاروباری برادری کے لیے خاصی اہمیت رکھتا ہے۔

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ بندرگاہوں اور شپنگ کے شعبے میں سرمایہ کاری کے وسیع امکانات موجود ہیں، جبکہ انفارمیشن ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت سے متعلق منصوبے بھی حکومت کی ترجیحات میں شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ نوجوانوں کو ہنر سکھانے اور روزگار کے مواقع فراہم کرکے انہیں معاشی طور پر خودمختار بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ جدید ٹیکنالوجی اور مشینری کے مؤثر استعمال سے زرعی پیداوار میں اضافہ کیا جاسکتا ہے۔ وزیراعظم نے کان کنی اور معدنیات کے شعبے کو بھی سرمایہ کاری کے لیے اہم قرار دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں زرعی شعبے کے اندر بھی ترقی اور سرمایہ کاری کے وسیع مواقع موجود ہیں۔

شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان خطے میں امن کے فروغ اور کشیدگی کم کرنے کی کوششوں میں اپنا کردار ادا کر رہا ہے۔ ان کے مطابق گزشتہ ایک سال کے دوران پاکستان اور امریکا کے تعلقات میں نمایاں بہتری آئی ہے، جبکہ پاکستان امریکا بزنس کونسل اسلام آباد اور واشنگٹن کے درمیان کاروباری روابط مضبوط بنانے کے لیے ایک اہم پل کا کردار ادا کر رہی ہے۔