وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کا موسمیاتی منصوبوں پر مؤثر عملدرآمد پر زور

وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کے لیے مقرر کیے گئے اہداف کے فوائد عام شہریوں اور مقامی آبادیوں تک پہنچنا ضروری ہیں۔ ان کے مطابق موسمیاتی منصوبوں کو مؤثر انداز میں عملی جامہ پہنانے کے لیے مضبوط پالیسی فریم ورک درکار ہے۔

نیویارک میں موسمیاتی تبدیلی کے موضوع پر منعقدہ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے محمد اورنگزیب نے کہا کہ موسمیاتی منصوبوں کو آگے بڑھانے کے لیے مناسب مالی وسائل تک رسائی بھی بنیادی ضرورت ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ موسمیاتی اقدامات کا فائدہ عوام اور مقامی کمیونٹیز تک منتقل ہونا چاہیے۔

وزیر خزانہ نے زور دیا کہ ملک میں موسمیاتی منصوبوں پر عملدرآمد کی صلاحیت کو مزید بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔ ان کے مطابق موسمیاتی تبدیلی سے متعلق کوششیں صرف مذاکرات اور اعلانات تک محدود نہیں رہنی چاہئیں بلکہ عملی اقدامات کے لیے مشترکہ اتفاق رائے پیدا کرنا ہوگا۔

محمد اورنگزیب نے بتایا کہ موسمیاتی منصوبوں کے لیے ملکی اور بین الاقوامی سطح پر دستیاب مالی وسائل کو بروئے کار لانے کی کوششیں جاری ہیں۔ ان کے مطابق حکومت عالمی مالیاتی اداروں اور موسمیاتی فنڈز سے وسائل حاصل کرنے کے لیے بھی اقدامات کر رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ مختلف اداروں کے درمیان مؤثر رابطے کا فقدان موسمیاتی منصوبوں کی راہ میں ایک اہم رکاوٹ ہے، جبکہ قابلِ سرمایہ کاری منصوبوں کی کمی بھی مسائل میں شامل ہے۔ وزیر خزانہ کے مطابق 2022 کے سیلاب کے بعد بھی بعض عالمی مالی وسائل ایسے منصوبوں کی عدم دستیابی کے باعث استعمال نہیں کیے جاسکے جن پر یہ رقم خرچ کی جاسکتی۔