دھرنا 27 ستمبر کو، پولیس کی آزمائش ابھی سے
✍️ میاں عمر منظور
ذرا ایک منظر تصور کیجیے۔
ڈیوٹی پر روانہ ہوتے ہوئے ایک سپاہی سے اس کا بچہ پوچھتا ہے،
“ابو! آپ اس بار کب واپس آئیں گے؟”
سپاہی مسکرا کر کہتا ہے،
“بس بیٹا، ڈیوٹی ختم ہو گی تو آ جاؤں گا۔”
بچہ پھر پوچھتا ہے،
“لیکن ابو، آپ کی ڈیوٹی کب ختم ہو گی؟”
شاید اس سوال کا جواب خود سپاہی کے پاس بھی نہ ہو، کیونکہ دھرنا 27 ستمبر کو ہونا ہے، مگر پولیس اہلکاروں کی ڈیوٹی ابھی سے شروع ہو چکی ہے۔
کیلنڈر پر احتجاج کی ایک تاریخ ہوتی ہے، ڈیوٹی کی نہیں۔
دور دراز علاقوں سے آنے والے اہلکار اپنے گھروں اور بچوں سے دور مختلف مقامات پر تعینات کیے جانے لگے ہیں۔ دھرنا ابھی شروع نہیں ہوا، مگر ان کی نقل و حرکت، قیام، نگرانی اور سکیورٹی ڈیوٹی کا مرحلہ پہلے ہی شروع ہو چکا ہے۔
آنے والے دنوں میں ہم سڑکوں پر وردیاں دیکھیں گے، مگر شاید ان وردیوں کے اندر موجود انسانوں کو نہ دیکھ سکیں۔
کیمرا ہجوم گن لے گا، نعرے ریکارڈ کر لے گا اور ممکنہ تصادم دکھا دے گا؛ مگر کسی سپاہی کی آنکھوں میں جمع کئی راتوں کی نیند شاید کیمرے میں نہ آ سکے۔
کہتے ہیں ایک چراغ ہر رات چوراہے پر جلتا تھا۔ لوگ اس کی روشنی میں راستہ طے کرتے، مگر کسی نے کبھی یہ نہیں پوچھا کہ اس چراغ میں تیل کون ڈالتا ہے۔ ایک رات چراغ مدھم پڑنے لگا تو لوگوں نے شکایت کی کہ روشنی کم کیوں ہو گئی؟
چراغ نے جواب دیا:
“روشنی کم نہیں ہوئی، میرا تیل ختم ہو گیا ہے۔”
شاید ہمارے پولیس اہلکار بھی ایسے ہی چراغ ہیں۔
وہ گھنٹوں سڑکوں پر کھڑے ہوں گے، ہجوم کا سامنا کریں گے، گرمی، بھوک، پیاس اور تھکن برداشت کریں گے۔ رہائش، کھانا، صاف پانی، آرام اور گھر سے دوری—یہ سب ان کی ڈیوٹی کا وہ حصہ ہے جو عموماً کسی خبر کی سرخی نہیں بنتا۔
ہم پولیس کو عموماً ڈنڈے، وردی اور اختیار کی علامت سمجھتے ہیں۔ پولیس کی زیادتی، بدسلوکی یا اختیارات کے غلط استعمال پر سوال ضرور اٹھنا چاہیے، لیکن وردی کے اندر موجود انسان کو بھول جانا بھی انصاف نہیں۔
وردی اختیار کی علامت ضرور ہے، مگر اسے پہننے والا بھی گوشت پوست کا انسان ہے۔
اسے بھی بھوک لگتی ہے، نیند آتی ہے، موسم ستاتا ہے اور اس کے گھر میں بھی کوئی اس کا انتظار کرتا ہے۔ ہم اس سے چٹان بننے کا مطالبہ کرتے ہیں، مگر بھول جاتے ہیں کہ چٹان بھی مسلسل بارش میں گھِستی ہے۔
ریاست پولیس اہلکار سے امن، نظم و ضبط، برداشت اور قربانی کا تقاضا کرتی ہے تو ریاست پر بھی لازم ہے کہ اس کی بنیادی ضروریات، آرام، عزت اور فلاح کا خیال رکھے۔
پھر دھرنا ختم ہو جائے گا۔ کنٹینر ہٹ جائیں گے، سڑکیں کھل جائیں گی اور کیمرے کسی نئی خبر کی طرف مڑ جائیں گے۔
مگر کسی اہلکار کے پاؤں کے چھالے فوراً ختم نہیں ہوں گے۔ کئی راتوں کی ادھوری نیند ایک لمحے میں پوری نہیں ہو گی۔ اور کسی گھر میں ایک بچہ شاید پھر پوچھے گا:
“ابو، آپ اتنے دن کہاں تھے؟”
یہ وہ خبریں ہیں جن کی کوئی بریکنگ نیوز نہیں بنتی۔
پولیس کا احتساب بھی ضروری ہے اور پولیس اہلکار کی فلاح بھی۔
دھرنا 27 ستمبر کو ہو گا، مگر یہ چراغ ابھی سے جلنے لگے ہیں۔
ان کی روشنی سب دیکھیں گے، مگر ان کے اندر جلتا ہوا تیل شاید کسی کو دکھائی نہ دے۔
سوال صرف اتنا ہے:
جو چراغ ہمارے لیے ابھی سے جلنے لگے ہیں، ہم ان میں تیل کب ڈالیں گے؟