بات سنی گئی—اب ایک گزارش اور

✍️ میاں عمر منظور

جو خود دھوپ میں کھڑے ہیں، انہیں سایہ بھی تو ملے
جو چراغ رات بھر جلتے ہیں، انہیں تیل بھی تو ملے

حوالہ: گزشتہ تحریر — “دھرنا 27 ستمبر کو، پولیس کی آزمائش ابھی سے”

چند روز قبل اسی عنوان سے میں نے ان پولیس اہلکاروں کی مشکلات کی طرف توجہ دلائی تھی جو اپنے گھروں، بچوں اور معمول کی زندگی سے دور طویل ڈیوٹیاں انجام دے رہے ہیں۔ بات کھانے، رہائش، آرام اور ان بنیادی ضروریات کی تھی جو وردی پہن لینے سے ختم نہیں ہو جاتیں۔

خوش آئند بات یہ ہے کہ اس کے بعد ڈیوٹی پر موجود پولیس اہلکاروں کے کھانے کے انتظام میں واضح بہتری آئی، جسے خود اہلکاروں نے بھی سراہا۔

بظاہر یہ ایک چھوٹا سا قدم ہے، مگر اس میں ایک بڑی بات پوشیدہ ہے:

بات سنی گئی۔

یہی کسی ذمہ دار نظام کی خوب صورتی ہے کہ وہ نشاندہی کو محض تنقید سمجھ کر رد نہ کرے، بلکہ مسئلے کو محسوس کرے اور جہاں گنجائش ہو، اصلاح کی طرف قدم بڑھائے۔

جہاں کمی کی نشاندہی کرنا صحافت کی ذمہ داری ہے، وہیں بہتری آنے پر اسے تسلیم کرنا بھی صحافتی دیانت کا تقاضا ہے۔ قلم اگر صرف خامی لکھے اور اصلاح پر خاموش رہے تو شاید وہ بھی پورا انصاف نہیں کرتا۔

اس لیے کھانے کے انتظام میں بہتری پر متعلقہ افسران کا شکریہ اور اس مثبت اقدام کی تحسین ہونی چاہیے۔

مگر ایک گزارش اور بھی ہے۔

دور دراز اضلاع سے آنے والے اہلکاروں کے لیے مناسب، محفوظ اور باعزت رہائش کا انتظام بھی ضروری ہے۔ جو اہلکار گھنٹوں سڑکوں پر کھڑا رہ کر امن و امان کی ذمہ داری نبھائے، اگر ڈیوٹی کے بعد اسے چند گھنٹے سکون سے سونے کی جگہ بھی میسر نہ ہو تو اگلی ڈیوٹی میں اس سے وہی مستعدی، برداشت اور تحمل کیسے مانگا جا سکتا ہے؟

آرام آسائش نہیں، مسلسل ڈیوٹی کرنے والے انسان کی بنیادی ضرورت ہے۔

اسی طرح اپنے اضلاع سے باہر سرکاری ڈیوٹی انجام دینے والے اہلکاروں کے TA/DA اور دیگر جائز واجبات کی بروقت ادائیگی بھی یقینی بنائی جانی چاہیے۔

ایک اہلکار ریاست کی ذمہ داری نبھانے کے لیے اپنا گھر، اپنے بچے اور اپنا شہر چھوڑ کر نکلا ہے۔ کم از کم سرکاری ڈیوٹی کا اضافی مالی بوجھ اس کی اپنی جیب پر نہیں پڑنا چاہیے۔

ہم وردی سے فرض تو مانگتے ہیں، مگر کبھی یہ سوال بھی ہونا چاہیے:

وردی کے اندر موجود انسان کو ہم نے کیا دیا؟

پہلی تحریر میں سوال کیا تھا:

“جو چراغ ہمارے لیے ابھی سے جلنے لگے ہیں، ہم ان میں تیل کب ڈالیں گے؟”

خوشی ہے کہ تیل ڈالنے کی ابتدا ہو گئی ہے۔

اب ان چراغوں کو مناسب چھت، چند گھنٹے پُرسکون آرام اور ان کا جائز TA/DA بھی بروقت مل جائے تو یہ صرف سہولت نہیں، ایک پیغام ہوگا کہ ریاست اپنے اہلکار سے صرف فرض نہیں مانگتی، بلکہ اس کی عزت، آرام اور جائز حقوق کا خیال بھی رکھتی ہے۔

کیونکہ چراغ سے روشنی مانگنا آسان ہے، اصل ذمہ داری اسے بجھنے نہ دینا ہے۔

اچھے اقدام پر شکریہ—باقی مسائل پر بھی اسی احساس اور عملی توجہ کی گزارش۔