حکومت سے غلطی ہوئی، غلطی کروائی گئی… یا یہی کامیاب حکمتِ عملی ثابت ہوگی؟
پنجاب — کھلا میدان؟
اسلام آباد — بند قلعہ؟
نظریں دروازے پر، کھیل کہیں اور؟
✍️ میاں عمر منظور
سیاست بھی عجیب شطرنج ہے۔
جب بادشاہ خطرے میں ہو تو مہرے اس کے گرد جمع کیے جاتے ہیں۔ گھوڑا اپنی جگہ چھوڑتا ہے، رخ آگے بڑھتا ہے، پیادے دیوار بناتے ہیں اور بادشاہ بظاہر محفوظ ہو جاتا ہے۔
مگر ماہر کھلاڑی کی نظر صرف بادشاہ پر نہیں ہوتی۔ وہ یہ بھی دیکھتا ہے کہ مہرے کن خانوں کو خالی کر کے آئے ہیں۔
کبھی قلعے کے مرکزی دروازے کو بچانے کے لیے پوری فوج وہیں کھڑی کر دی جاتی ہے۔ دروازہ محفوظ ہو جاتا ہے، بادشاہ بھی حصار میں آ جاتا ہے، مگر پیچھے کی بساط خالی پڑی رہتی ہے۔
سیاست میں بعض فیصلے بظاہر دفاعی ہوتے ہیں، لیکن ان کے نتائج بعد میں اصل سوال بن جاتے ہیں۔ بادشاہ کو بچانے کے لیے مہرے ایک طرف جمع ہوں تو اسی وقت شطرنج کے دوسرے خانے خالی ہونا شروع ہو جاتے ہیں۔
شاید آج کی سیاسی صورتِ حال کو بھی اسی زاویے سے دیکھنے کی ضرورت ہے۔
اسلام آباد کے گرد سکیورٹی کا غیر معمولی حصار قائم کیا جا رہا ہے اور پنجاب سمیت دوسرے علاقوں سے اضافی نفری طلب کی گئی ہے۔ دارالحکومت، اہم تنصیبات اور شہری زندگی کا تحفظ یقیناً ریاست کی ذمہ داری ہے۔
مگر ہر چال کے دو رخ ہوتے ہیں۔
ایک یہ کہ مہرہ کہاں پہنچا، اور دوسرا یہ کہ وہ کون سا خانہ خالی چھوڑ آیا۔
یہی سوال پنجاب کے بارے میں پیدا ہو رہا ہے۔
اگر مختلف اضلاع سے بھاری نفری اسلام آباد منتقل ہوتی ہے تو کیا پنجاب میں پیدا ہونے والی انتظامی گنجائش پی ٹی آئی کو اپنی سیاسی سرگرمی مختلف شہروں تک پھیلانے کا موقع دے سکتی ہے؟
اگر سیاسی سرگرمی صرف اسلام آباد تک محدود رہنے کے بجائے لاہور، فیصل آباد، گوجرانوالہ، ملتان، ساہیوال اور دوسرے شہروں تک پھیلتی ہے تو حکومت کے سامنے ایک دروازے کے بجائے کئی مقامات پر امن و امان برقرار رکھنے کا چیلنج پیدا ہو سکتا ہے۔
لیکن تصویر کا دوسرا رخ بھی موجود ہے۔
ممکن ہے حکومت نے مہرے غلط جگہ جمع ہی نہ کیے ہوں۔
ممکن ہے حکمتِ عملی یہ ہو کہ احتجاجی دباؤ اسلام آباد کی طرف آئے اور وہاں پہلے سے موجود نفری، رکاوٹوں اور سکیورٹی انتظامات کے ذریعے مارچ کو دارالحکومت میں داخل ہونے سے روکا جائے۔
اگر حکومت اس دوران امن و امان برقرار رکھنے میں کامیاب رہتی ہے تو آج جس فیصلے پر سوال اٹھ رہے ہیں، وہی فیصلہ بعد میں ایک مؤثر انتظامی حکمتِ عملی کے طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔
یعنی اس بساط کے کم از کم تین ممکنہ رخ ہیں:
حکومت سے غلطی ہوئی؟
حکومت سے غلطی کروائی گئی؟
یا حکومت نے جان بوجھ کر تمام مہرے اسی خانے پر جمع کیے ہیں جہاں اسے اصل مقابلے کی توقع ہے؟
دوسرے امکان کے بارے میں فی الحال کوئی واضح ثبوت موجود نہیں۔ اس لیے اسے حقیقت نہیں بلکہ ایک سیاسی سوال ہی سمجھنا چاہیے۔
سیاسی تحریکیں پانی جیسی ہوتی ہیں۔ سامنے بند باندھ دیں تو ضروری نہیں کہ پانی رک جائے۔ وہ اپنا راستہ بدل بھی سکتا ہے۔
اور یہی حکومت کی حکمتِ عملی کا اصل امتحان ہوگا:
پانی بند کے سامنے رک جاتا ہے، یا اپنا راستہ بدل لیتا ہے؟
ذرا قلعے کا منظر دیکھیے۔
سپہ سالار کو اطلاع ملتی ہے کہ حملہ مرکزی دروازے پر ہوگا۔ تیر انداز، گھڑ سوار اور اضافی دستے سب دروازے پر بلا لیے جاتے ہیں۔
دروازہ مضبوط ہو جاتا ہے۔
تب فصیل پر کھڑا ایک سپاہی پوچھتا ہے:
حضور! جن مورچوں سے یہ فوج یہاں بلائی گئی ہے، وہاں اب کون کھڑا ہے؟
سپہ سالار کے پاس بھی جواب موجود ہے:
اگر دشمن کا پورا لشکر اسی دروازے پر آ رہا ہے تو فیصلہ بھی یہیں ہوگا۔
یہی موجودہ سیاسی شطرنج کا اصل سوال ہے۔
کیا حکومت نے درست اندازہ لگایا ہے کہ اصل دباؤ اسلام آباد ہی پر آئے گا؟ یا ایک دروازہ مضبوط کرتے کرتے باقی بساط پر سیاسی گنجائش پیدا ہو گئی ہے؟
شطرنج کا اچھا کھلاڑی صرف یہ نہیں دیکھتا کہ مہرہ کہاں پہنچا۔ وہ یہ بھی دیکھتا ہے کہ مہرہ کہاں سے اٹھا، کون سا خانہ خالی ہوا اور اگلی چال کہاں سے آ سکتی ہے۔
کبھی پوری فوج رات بھر قلعے کے مرکزی دروازے پر تلواریں تھامے کھڑی رہتی ہے اور صبح خبر آتی ہے:
حملہ دروازے پر ہوا ہی نہیں۔
اور کبھی حملہ واقعی اسی دروازے پر آتا ہے، پھر مضبوط حصار پوری بازی بدل دیتا ہے۔
اس لیے فیصلہ ابھی باقی ہے۔
یہ حکومت کی غلطی ہے؟
حکومت سے غلطی کروائی گئی ہے؟
یا یہی حکومت کی کامیاب چال ثابت ہوگی؟
جواب اسلام آباد کا دروازہ نہیں، شاید پوری بساط دے گی۔