چور کون؟ — جس نے کرپشن کی، یا ہم جنہوں نے شکایت کرنے کی گستاخی کر دی؟

✍️ تحریر: میاں عمر منظور

حساب ان سے مانگا تھا… کٹہرے میں ہم کھڑے ہو گئے!

خبردار! کرپشن کی شکایت کرنے سے پہلے اپنا کردار، نیت، ذرائع اور سابقہ تیار رکھیں—کیونکہ ممکن ہے حساب اُس سے بعد میں مانگا جائے جس پر الزام ہے، پہلے آپ سے پوچھا جائے کہ آپ کو شکایت کرنے کی جرأت کیسے ہوئی؟

یہاں پہلا سوال یہ نہیں ہوتا کہ “کرپشن ہوئی یا نہیں؟” بلکہ یہ ہوتا ہے: “شکایت کرنے والا کون ہے؟ اسے پتا کیسے چلا؟ اور اس کے پیچھے کون ہے؟”

یعنی جس پر انگلی اٹھی، وہ ایک طرف؛ اصل مشکوک وہ ہے جس نے انگلی اٹھانے کی گستاخی کی۔

ہم نے آئینہ دکھایا تو وہ خفا ہو بیٹھے،
داغ چہرے پہ تھا، الزام آئینے پہ آیا۔

ایک شخص رات کے اندھیرے میں ایک گھر میں داخل ہوا، تجوری توڑی، مال تھیلے میں بھرا اور نکلنے لگا تو مالک جاگ گیا۔

مالک نے پوچھا:
“کون ہو تم؟ میری تجوری کیوں توڑی؟”

چور نے تھیلا زمین پر رکھا، سینہ تان کر پلٹا اور بولا:
“تمہاری جرأت کیسے ہوئی مجھ سے یہ سوال کرنے کی؟”

مالک حیران ہوا:
“گھر میرا، تجوری میری، مال میرا… کیا سوال بھی نہ کروں؟”

چور برہم ہو گیا:
“پہلے یہ بتاؤ، تم اس وقت جاگ کیوں رہے تھے؟ تمہیں کیسے پتا چلا کہ تجوری ٹوٹی ہے؟ اور مجھے چور کہنے کا اختیار تمہیں کس نے دیا؟”

پھر شور مچانے لگا:
“پکڑو اسے! یہ میرے خلاف سازش کر رہا ہے، میری ساکھ خراب کر رہا ہے!”

کچھ ہی دیر میں منظر بدل گیا۔

تجوری ٹوٹی ہوئی تھی، مال تھیلے میں تھا، چور سامنے کھڑا تھا… مگر کٹہرے میں مالکِ مکان تھا۔

آج کرپشن اور بے ضابطگی پر سوال اٹھاتے ہوئے ہمیں بھی بعض اوقات یہی منظر دکھائی دیتا ہے۔

ہم پوچھتے ہیں:
“یہ حساب درست کیوں نہیں؟”

آگے سے جواب ملتا ہے:
“تم نے حساب مانگا ہی کیوں؟”

ہم پوچھتے ہیں:
“یہ بے ضابطگی کیسے ہوئی؟”

آگے سے جواب ملتا ہے:
“تمہیں یہ معلومات ملیں کہاں سے؟”

گویا مسئلہ بے ضابطگی نہیں، مسئلہ یہ ہے کہ ہمیں بے ضابطگی کا پتا کیسے چل گیا۔

شاید ہماری نئی افسر شاہی کا نیا اصول بھی یہی بنتا جا رہا ہے: غلطی سامنے آئے تو غلطی کی وضاحت مت کرو، پہلے معلوم کرو کہ دیکھنے والے کی نظر وہاں پہنچی کیسے۔

اور جب ہم ثبوت سامنے رکھیں تو ثبوت کا جواب دینے کے بجائے ہماری نیت، کردار اور مقصد کٹہرے میں کھڑا کر دیا جاتا ہے۔

یوں لگتا ہے جیسے مسئلہ تجوری کا ٹوٹنا نہیں، ٹوٹی ہوئی تجوری کی طرف انگلی اٹھانا ہے۔

کیا خوب احتساب ہے—رسید مانگو تو نیت مشکوک، حساب پوچھو تو کردار مشکوک، ثبوت دکھاؤ تو مقصد مشکوک!

جس نے مال اٹھایا، وہ معزز؛ جس نے شور مچایا، وہ مشکوک۔

کہانی کا خطرناک موڑ چوری نہیں۔ خطرناک موڑ تب آتا ہے جب چور مالک کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر پوچھنے لگے:

“تم نے مجھے چور کہا کیسے؟”

پھر چور کو اپنی بے گناہی ثابت نہیں کرنا پڑتی، مالک کو ثابت کرنا پڑتا ہے کہ واقعی چوری ہوئی تھی۔

اور اگر ہم سوال پر قائم رہیں تو شاید اگلا حکم ہو:

“ذرا ان کا بھی حساب نکالو… یہ بہت سوال کرتے ہیں!”

یعنی جن سے حساب مانگا تھا، وہی ہمارا حساب کھولنے بیٹھ گئے۔

چور کی فائل بند، سوال کرنے والے کی فائل کھلی!

یہیں سے کہانی صرف چوری کی نہیں رہتی، نظام کی کہانی بن جاتی ہے۔

کیونکہ جہاں سوال کرنے والا مجرم اور جواب دینے والا منصف بن جائے، وہاں مسئلہ صرف یہ نہیں رہتا کہ چوری کس نے کی۔

اصل سوال یہ بن جاتا ہے:

“چور کون ہے… اور مجرم کسے بنا دیا گیا ہے؟”

احتساب سے فرار نہیں—حساب دینا ہوگا۔