طلباء کی ذہنی صحت اور ٹراما سے آگاہی پر لاہور میں سیمینار
لاہور یونیورسٹی آف مینجمنٹ سائنسز (لمز) کے سید احسن علی اور سید مراتب علی، اسکول آف ایجوکیشن کے زیر اہتمام، علی انسٹی ٹیوٹ آف ایجوکیشن کے اشتراک سے طلباء کی ذہنی صحت کے موضوع پر سیمینار منعقد کیا گیا۔ تقریب کا مرکزی موضوع طلباء میں ذہنی صحت کے مسائل کی نشاندہی، ان کی معاونت اور پورے اسکول میں ٹراما سے آگاہی پر مبنی تعلیمی نظام کا قیام تھا۔
علی انسٹی ٹیوٹ آف ایجوکیشن میں ہونے والے اس سیمینار کا انعقاد اسکول آف ایجوکیشن اور سنجن نگر پبلک ایجوکیشن ٹرسٹ کے اشتراک سے مکمل کیے گئے ایک سالہ منصوبے کے اختتام پر کیا گیا۔ منصوبے کا مقصد اسکول کی سطح پر ایسا فریم ورک تیار کرنا تھا جس کے ذریعے طلباء کی ذہنی اور جذباتی ضروریات کو بہتر طور پر سمجھا اور پورا کیا جاسکے۔
تقریب میں ماہرین تعلیم، محققین، سرکاری حکام اور مختلف اسکولوں کے سربراہان نے شرکت کی۔ شرکا نے اس بات پر گفتگو کی کہ تعلیمی ادارے طلباء میں ذہنی صحت سے متعلق مسائل کی بروقت شناخت کرتے ہوئے ان کے لیے مؤثر معاونت کیسے فراہم کرسکتے ہیں۔
پینل میں نواز شریف سینٹر آف ایکسی لینس ارلی چائلڈ ہڈ سینٹر کے چیف ایگزیکٹو آفیسر ڈاکٹر خرم شہزاد، کیمبرج پاکستان کی ہیڈ آف ایجوکیشن سدرہ جواد، علی انسٹی ٹیوٹ آف ایجوکیشن کی ڈائریکٹر سارہ فیضان، سنجن نگر پبلک ایجوکیشن ٹرسٹ کی بورڈ ممبر بینا رضا اور اسکول آف ایجوکیشن کی فیکلٹی ممبر، ٹراما تھراپسٹ و محقق فضا سہیل شامل تھیں۔
سیمینار میں مقررین نے اس امر پر زور دیا کہ طلباء کی ذہنی صحت کا براہ راست تعلق ان کے سیکھنے اور تدریسی عمل سے ہے، اس لیے ذہنی صحت کو تعلیم سے الگ تصور کرنے کے بجائے تعلیمی نظام کا بنیادی حصہ بنایا جانا چاہیے۔
اسکول آف ایجوکیشن کی ڈین ڈاکٹر طیبہ تمیم نے گفتگو کا آغاز کرتے ہوئے کہا کہ بہت سے بچے ایسے جذباتی اور ذہنی بوجھ کے ساتھ اسکول آتے ہیں جو بظاہر نظر نہیں آتا۔ ان کے مطابق طلباء اپنے تجربات اور مشکلات کو اپنے ساتھ کلاس روم تک لاتے ہیں، جنہیں سمجھنا تعلیمی اداروں کے لیے ضروری ہے۔
پراجیکٹ کی سبجیکٹ لیڈ اور اسکول آف ایجوکیشن کی فیکلٹی ممبر فضا سہیل نے منصوبے کے فریم ورک کی افادیت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ تعلیمی اداروں میں ایسے کلاس رومز کی ضرورت ہے جہاں طلباء سکون کے ساتھ سیکھ سکیں۔ ان کے مطابق یہی ماحول ان بچوں کے لیے بھی موزوں ہونا چاہیے جو ذہنی دباؤ، جذباتی بے چینی، توجہ برقرار رکھنے میں مشکلات یا دیگر مسائل کا سامنا کررہے ہوں۔
فضا سہیل نے کہا کہ یہ فریم ورک تمام طلباء کو مدنظر رکھتے ہوئے تشکیل دیا گیا ہے، جس میں عام طلباء کے ساتھ نیورو ڈائیورس افراد، مشکلات سے دوچار بچے اور معذوری کے ساتھ زندگی گزارنے والے طلباء بھی شامل ہیں۔
سنـجن نگر پبلک ایجوکیشن ٹرسٹ کی بورڈ ممبر بینا رضا نے ادارے میں منصوبے کے تجربات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس ماڈل کے دائرہ کار کو مزید وسیع کیا جاسکتا ہے۔ ان کے مطابق اگر یہ طریقہ کار سنجن نگر کے اسکولوں میں مؤثر ثابت ہوسکتا ہے تو اسے دیگر تعلیمی اداروں میں بھی اختیار کیا جاسکتا ہے۔ انہوں نے نجی شعبے اور حکومت دونوں پر اس حوالے سے توجہ دینے پر زور دیا۔
پینل ڈسکشن کے دوران مقررین نے واضح کیا کہ ذہنی صحت صرف کسی ذہنی بیماری سے محفوظ ہونے کا نام نہیں بلکہ اس کا تعلق اس بات سے بھی ہے کہ فرد اسکول اور روزمرہ زندگی میں کس حد تک بہتر انداز میں آگے بڑھ رہا ہے اور اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لارہا ہے۔
ماہرین نے اسکول انتظامیہ پر زور دیا کہ ذہنی صحت سے متعلق مسائل سامنے آنے کے بعد ردعمل دینے کے بجائے پہلے سے ایسے اقدامات کیے جائیں جو طلباء کو مشکلات سے نمٹنے میں مدد فراہم کرسکیں۔ اس کے ساتھ اساتذہ کی ذہنی اور جذباتی بہبود کو بھی تعلیمی ماحول کا اہم حصہ قرار دیا گیا۔
پینلسٹس کے مطابق صرف اسکول میں چند کونسلرز کی تقرری ذہنی صحت کے تمام مسائل کا جامع حل نہیں۔ ان کے خیال میں دیرپا اور مؤثر تبدیلی کے لیے پورے اسکول کو شامل کرنے والا ایسا نظام ضروری ہے جس میں طلباء، اساتذہ اور انتظامیہ کے باہمی تعلقات اور معاون ماحول کو مرکزی حیثیت حاصل ہو۔
دریں اثنا، اسکول آف ایجوکیشن نے تعلیمی نفسیات میں بیچلر آف سائنس کی نئی ڈگری متعارف کرانے کا بھی اعلان کیا ہے۔ اس پروگرام میں نفسیات، تعلیم اور انسانی نشوونما کے مختلف پہلوؤں کو یکجا کیا گیا ہے تاکہ طلباء کو سیکھنے والوں کی ضروریات کو جامع انداز میں سمجھنے اور مختلف تعلیمی ماحول میں ان کی بہتر معاونت کے لیے ضروری علم اور مہارت فراہم کی جاسکے۔
اس نئی ڈگری پروگرام کا آغاز اسکول آف ایجوکیشن کی تعلیمی سرگرمیوں میں توسیع کی جانب ایک اہم قدم قرار دیا گیا ہے۔ پروگرام کے ذریعے زیادہ جامع، حساس اور معاون تعلیمی ماحول کے قیام پر توجہ مرکوز کی جائے گی، تاکہ طلباء کی متنوع ضروریات کو بہتر طور پر سمجھتے ہوئے ان کی تعلیمی اور ذاتی نشوونما میں معاونت کی جاسکے۔