رانا ثناء اللہ کا پی ٹی آئی سے مذاکرات اور بانی سے ملاقات پر اہم بیان

وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثناء اللہ نے کہا ہے کہ حکومت نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کو لانگ مارچ مؤخر یا ختم کرنے کی صورت میں بانی پی ٹی آئی عمران خان سے ملاقات کی سہولت دینے کی یقین دہانی کرائی تھی۔

نجی ٹی وی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے رانا ثناء اللہ نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کے علاج کے لیے لندن سے ڈاکٹر بھی بلایا گیا تھا اور یہ اقدام قانونی طریقہ کار کے مطابق کیا گیا۔ ان کے مطابق عمران خان کو شفا انٹرنیشنل اسپتال منتقل کرنے کا معاملہ کسی ذاتی ضد کا نتیجہ نہیں تھا۔

رانا ثناء اللہ نے کہا کہ حکومت نے پی ٹی آئی کو بتایا تھا کہ جیل مینوئل کے مطابق بانی پی ٹی آئی سے ملاقاتیں شروع ہوسکتی ہیں، جبکہ انہیں علاج کی مناسب سہولیات بھی فراہم کی جارہی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان مذاکرات کا بنیادی مقصد دہشت گردی کے خلاف مشترکہ حکمت عملی پر تعاون حاصل کرنا بھی تھا۔

وزیراعظم کے مشیر نے پی ٹی آئی کے لانگ مارچ کو ناکام قرار دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ مارچ میں شرکا کی تعداد توقعات کے مقابلے میں بہت کم رہی۔ ان کے مطابق پی ٹی آئی اس وقت اسلام آباد تک بڑی تعداد میں کارکنوں کو پہنچانے کی پوزیشن میں نہیں ہے۔

رانا ثناء اللہ کا کہنا تھا کہ حکومت نے پی ٹی آئی کے ساتھ دشمنی پر مبنی تعلقات نہیں چاہے اور مذاکرات کا فیصلہ وزیراعظم اور صدر کی سطح پر کیا گیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ اگر خیبرپختونخوا حکومت دہشت گردی کے خلاف اپنی آئینی ذمہ داریاں پوری کرے تو اس سے بہتر کوئی بات نہیں ہوگی۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ پاکستان میں دہشت گردی کے معاملے پر وفاقی حکومت کی پالیسی سازی کا اختیار برقرار ہے اور تمام اداروں کو دہشت گردی کے خلاف وفاق کے ساتھ تعاون کرنا چاہیے۔ ان کے مطابق ملک کو دہشت گردی سے نجات دلانے کے لیے مشترکہ کوششیں ضروری ہیں۔

مشیر وزیراعظم نے کہا کہ خیبرپختونخوا حکومت کے بعض اقدامات جاری رہے تو وفاق کی جانب سے ایمرجنسی سے متعلق اقدامات پر غور ناگزیر ہوسکتا ہے۔ تاہم انہوں نے واضح کیا کہ حکومت صوبائی حکومت کو اندرونی طور پر تبدیل کرانے کی خواہش نہیں رکھتی۔

رانا ثناء اللہ نے مولانا فضل الرحمان کی سیاسی اہمیت کا بھی ذکر کرتے ہوئے کہا کہ انہیں اعتماد میں لیا جانا چاہیے۔ ان کے مطابق پیپلزپارٹی بھی حکومت کے مؤقف سے مکمل طور پر آگاہ اور مذاکراتی عمل میں شامل رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ بلاول بھٹو زرداری کا مؤقف تھا کہ مذاکرات شروع کرنے سے پہلے لانگ مارچ ختم یا مؤخر کرایا جائے۔ حکومت نے اس تجویز سے اتفاق کرتے ہوئے کہا تھا کہ فریقین مذاکرات کی میز پر بیٹھیں اور دیگر معاملات کے ساتھ لانگ مارچ کے معاملے کو بھی طے کیا جائے۔