مردہ ستارے کے گرد ’دوسری نسل‘ کے ممکنہ سیارے کی دریافت
ماہرینِ فلکیات نے ایک ایسے ممکنہ سیارے کے شواہد دریافت کیے ہیں جس کے بارے میں خیال کیا جا رہا ہے کہ وہ ایک ایسے ستارے سے خارج ہونے والے مادے سے وجود میں آیا جو اپنی زندگی کے اختتام کو پہنچ چکا ہے۔
یونیورسٹی آف واروک سے وابستہ پی ایچ ڈی محقق جیمی ولیمز کی قیادت میں ہونے والی تحقیق میں ایسے سیاروں کے تصور کا جائزہ لیا گیا ہے جنہیں ’دوسری نسل کے سیارے‘ کہا جاتا ہے۔ سائنس دانوں کے مطابق یہ اجرام اس وقت تشکیل پا سکتے ہیں جب کوئی ستارہ اپنی زندگی کے آخری مرحلے میں بڑی مقدار میں مادہ خلا میں خارج کرتا ہے۔
تحقیق میں سامنے آنے والا امیدوار سیارہ ایک وائٹ ڈوارف کے گرد گردش کرتا دکھائی دیتا ہے۔ اگر اس کی مزید مشاہدات کے ذریعے تصدیق ہو جاتی ہے تو یہ وائٹ ڈوارف کے گرد دریافت ہونے والا اپنی نوعیت کا پہلا ممکنہ ’دوسری نسل کا سیارہ‘ ہوگا۔
جیمی ولیمز کے مطابق اس طرح کے سیاروں کا وجود انتہائی غیر معمولی سمجھا جاتا ہے اور وائٹ ڈوارف کے گرد ان کی موجودگی خاص طور پر حیران کن ہے۔ ان کے مطابق اس تصور کو یوں سمجھا جا سکتا ہے کہ ایک ایسا سیارہ وجود میں آئے جو اسی ستارے کے آخری مرحلے میں باقی رہ جانے والے مادے سے تشکیل پایا ہو جس کے نظام کا وہ کبھی حصہ تھا۔
اس سے پہلے ماہرینِ فلکیات نے پلسرز، یعنی انتہائی کثیف اور تیزی سے گردش کرنے والے مردہ ستاروں کے گرد بھی ایسے ممکنہ سیاروں کے شواہد تلاش کیے تھے۔ تاہم وائٹ ڈوارف کے گرد اسی نوعیت کے سیارے کا ممکنہ مشاہدہ ایک نئی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
محققین کا کہنا ہے کہ اگر آئندہ مشاہدات اس دریافت کی تصدیق کر دیتے ہیں تو اس سے سیاروں کی تشکیل کے موجودہ تصورات میں مزید وسعت آئے گی اور ممکن ہے کہ کائنات میں دوسری نسل کے سیارے پہلے کے اندازوں کے مقابلے میں زیادہ عام ہوں۔