آئی ایم ایف پٹرول سبسڈی اسکیم جاری رکھنے پر راضی، نئے صارفین شامل کرنے سے روک دیا
پاکستان اور عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے درمیان قرض پروگرام کے چوتھے اقتصادی جائزے کے لیے مذاکرات جاری ہیں، جن میں پٹرول سبسڈی سمیت توانائی، ٹیکس وصولیوں اور معاشی اصلاحات کے مختلف معاملات زیر بحث ہیں۔
ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف نے وزیراعظم کی پٹرول سبسڈی اسکیم جاری رکھنے پر اتفاق کیا ہے، تاہم شرط عائد کی ہے کہ اس پروگرام میں مزید صارفین کا اضافہ نہ کیا جائے۔
پاکستانی حکام اور آئی ایم ایف مشن نے مذاکرات کے دوران میمورنڈم آف اکنامک اینڈ فنانشل پالیسی (MEFP) کی تیاری پر بھی کام شروع کردیا ہے۔ اس سلسلے میں وزارت پٹرولیم اور پاور ڈویژن کے حکام کی آئی ایم ایف وفد سے بات چیت جاری ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ آئی ایم ایف نے صوبوں کی رضامندی سے شوگر سیکٹر کو ڈی ریگولیٹ کرنے پر زور دیا ہے۔ تاہم سندھ حکومت نے وفاقی شوگر پالیسی کو صوبائی خودمختاری میں مداخلت قرار دیتے ہوئے اختلاف کیا ہے، جس کے باعث شوگر سیکٹر سے متعلق پالیسی کو حتمی شکل نہیں دی جاسکی۔
آئی ایم ایف مشن کی وزارت خزانہ کے حکام سے ایک اور ملاقات بھی متوقع ہے۔ ذرائع کے مطابق فنڈ نے آٹو پالیسی کے تحت الیکٹرک گاڑیوں (EVs) کو حاصل ٹیکس مراعات ختم کرنے کا مطالبہ بھی کیا ہے۔
اسٹاف لیول معاہدہ رواں ہفتے ہونے کا امکان
پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان مذاکرات اب اہم مرحلے میں داخل ہوگئے ہیں۔ ذرائع کے مطابق قرض پروگرام کی اگلی قسط کے اجرا کی راہ ہموار کرنے کے لیے چوتھے جائزے کے دوران توانائی کے شعبے میں اصلاحات، ٹیکس وصولیوں اور دیگر معاشی اہداف پر تفصیلی بات چیت جاری ہے۔
مذاکرات میں پیش رفت برقرار رہنے کی صورت میں رواں ہفتے اسٹاف لیول معاہدہ طے پانے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔
ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف مشن نے میمورنڈم آف فنانشل اینڈ اکنامک پالیسی پاکستانی حکام کو پیش کردیا ہے۔ اس دوران وفد کی ایف بی آر اور وزارت پٹرولیم کے حکام سے بھی ملاقاتیں ہوں گی، جن میں فیول سبسڈی، گیس ٹیرف اور توانائی کے شعبے کے گردشی قرضے سمیت اہم معاملات زیر غور آئیں گے۔
تکنیکی مذاکرات کے دوران ایف بی آر حکام نے رواں مالی سال مقررہ ٹیکس ہدف حاصل کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے۔ آئی ایم ایف مشن نے اب تک ہونے والی پیش رفت اور جولائی سے ستمبر تک کی محصولات کی کارکردگی پر اطمینان کا اظہار کیا ہے۔
پاکستانی اقتصادی ٹیم نے دسمبر 2026 تک نئے قومی مالیاتی کمیشن (NFC) کی تشکیل کی بھی یقین دہانی کرائی ہے۔
پاور سیکٹر کی مجموعی کارکردگی پر اطمینان کے باوجود آئی ایم ایف نے توانائی کے شعبے کے گردشی قرضے میں کمی، ڈسکوز کے نقصانات پر قابو پانے اور نجکاری کے عمل کو آگے بڑھانے کے لیے مزید اقدامات پر زور دیا ہے۔
پالیسی سطح کے مذاکرات میں معاشی اصلاحات، ایف بی آر کی ٹیکس وصولیوں اور دیگر اقدامات کو حتمی شکل دی جائے گی۔
ذرائع کے مطابق رواں مالی سال پاکستان کی اقتصادی شرح نمو تقریباً 4 فیصد رہنے کا امکان ہے، تاہم خطے میں جاری کشیدگی کے باعث کرنٹ اکاؤنٹ خسارے پر اضافی دباؤ آنے کا خدشہ ہے۔
مذاکرات کامیابی سے مکمل ہونے کی صورت میں آئی ایم ایف مشن مجموعی جائزے سے متعلق اعلامیہ جاری کرے گا۔ اگر تمام معاملات پر اتفاق نہ ہوسکا تو بات چیت ورچوئل اجلاسوں کے ذریعے جاری رکھنے کا امکان ہے۔
ذرائع کے مطابق قرض پروگرام کی پانچویں قسط کا اجرا آئی ایم ایف کے ایگزیکٹو بورڈ کی منظوری سے مشروط ہوگا، جبکہ آئی ایم ایف وفد کی وزیراعظم شہباز شریف سے ملاقات بھی متوقع ہے۔