11 ڈسکوز کا مالی بحران پاور سیکٹر کیلئے بڑا خطرہ، سالانہ 1200 ارب روپے امداد کا امکان

بجلی کی 11 تقسیم کار کمپنیوں (ڈسکوز) کا مجموعی مالی بوجھ پاور سیکٹر کیلئے ایک بڑے خطرے کے طور پر سامنے آیا ہے، جس کے باعث گردشی قرضے اور حکومتی مالی امداد میں اضافے کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔ رپورٹ میں پاور سیکٹر کے مالی دباؤ کو کم کرنے کیلئے ڈسکوز کے آپریشنل نقصانات میں فوری کمی کو ناگزیر قرار دیا گیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق گزشتہ مالی سال کی پہلی ششماہی کے دوران حکومت نے بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کو 282 ارب روپے کی سبسڈی فراہم کی، تاہم اس کے باوجود گردشی قرضے میں مزید 143 ارب روپے کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ موجودہ صورتحال مزید خراب ہونے کی صورت میں حکومت کو ڈسکوز کیلئے سالانہ تقریباً 1200 ارب روپے تک مالی معاونت فراہم کرنا پڑ سکتی ہے۔

رپورٹ میں سفارش کی گئی ہے کہ ڈسکوز کے اخراجات اور مالی نقصانات کو کم کرنے کے ساتھ ساتھ وصولیوں کے نظام کو بہتر بنایا جائے تاکہ گردشی قرضے کو قابو میں لایا جاسکے۔ رپورٹ کے مطابق صرف سبسڈی فراہم کرنے سے مسئلہ مستقل بنیادوں پر حل نہیں ہوگا بلکہ اس کیلئے آپریشنل اور مالی اصلاحات بھی ضروری ہیں۔

خسارے میں جانے والی بجلی کمپنیوں کی کارکردگی بہتر بنانے اور ٹیرف کے نظام میں اصلاحات کو بھی اہم قرار دیا گیا ہے۔ بہتر حالات میں گردشی قرضہ تقریباً 3,200 ارب روپے تک محدود ہونے کی توقع ہے، جبکہ موجودہ صورتحال برقرار رہنے کی صورت میں پورٹ فولیو کا منافع تقریباً 80.5 ارب روپے رہ سکتا ہے۔

رپورٹ میں خدشہ ظاہر کیا گیا ہے کہ خراب صورتحال میں مجموعی مالی نقصان 140 سے 170 ارب روپے تک پہنچ سکتا ہے۔ خسارے میں چلنے والی ڈسکوز کی کارکردگی میں بہتری نہ آنے کی صورت میں مالی خطرات مزید بڑھنے کا امکان ہے۔

مالی خطرات میں خالص مالی آمدن کا ایک گنا سے کم رہنا بھی اہم مسئلہ قرار دیا گیا ہے۔ رپورٹ میں لاگت کے مقابلے میں وصولی کا تناسب 0.95 حاصل کرنے کی سفارش کی گئی ہے تاکہ بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کی مالی پوزیشن مستحکم ہوسکے۔

بجلی کے ٹیرف میں اصلاحات کو بھی پاور سیکٹر کی مالی صورتحال بہتر بنانے کیلئے اہم قرار دیا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق ٹیرف اصلاحات کے ذریعے سالانہ تقریباً 15 ارب روپے کی بچت ممکن ہے۔

رپورٹ میں حیسکو اور پیسکو کو بڑے مالی خسارے سے دوچار کمپنیوں میں شامل کیا گیا ہے، جبکہ سیپکو کی مالی صورتحال بھی انتہائی خراب قرار دی گئی ہے۔ کیسکو کو سب سے زیادہ خسارے والی کمپنی قرار دیتے ہوئے بتایا گیا ہے کہ کمپنی اپنے ہر ایک روپے کے اخراجات کے مقابلے میں صرف 55 پیسے وصول کر رہی ہے۔

کیسکو کو ہر سہ ماہی تقریباً 23 ارب روپے کے نقصان کا سامنا ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ محض سبسڈی کے ذریعے ڈسکوز کے مالی مسائل کا مستقل حل ممکن نہیں۔

دوسری جانب فیسکو، ہیزکو، میپکو، گیپکو اور آئیسکو کی مالی حالت نسبتاً بہتر بتائی گئی ہے۔ ان کمپنیوں میں لاگت کے مقابلے میں وصولی کا تناسب 1.01 سے 1.06 گنا تک ریکارڈ کیا گیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق لیسکو اور ٹیسکو کو معمولی مالی نقصان کا سامنا ہے، تاہم اگر اصلاحات کے ذریعے مجموعی کارکردگی بہتر بنائی جائے تو پورے ڈسکوز پورٹ فولیو کا منافع تقریباً دوگنا ہوکر 160 ارب روپے تک پہنچ سکتا ہے۔