فزکس کا نوبیل انعام فرانسس ہیلزن کے نام، آئس کیوب مشاہدہ گاہ میں اہم تحقیق کا اعتراف
رائل سویڈش اکیڈمی آف سائنسز نے رواں سال فزکس کے نوبیل انعام کا اعلان کردیا، جو بیلجیم سے تعلق رکھنے والے سائنسدان فرانسس ہیلزن کو دیا گیا ہے۔
فرانسس ہیلزن نے آئس کیوب نیوٹرینو آبزرویٹری کے ذریعے خلا سے آنے والے انتہائی زیادہ توانائی والے نیوٹرونز کی دریافت میں اہم کردار ادا کیا۔ نوبیل کمیٹی نے ان کی تحقیق کو ہائی انرجی نیوٹرینو فلکی طبعیات کے میدان میں ایک نمایاں پیش رفت قرار دیا ہے۔
رائل سویڈش اکیڈمی کے مطابق آئس کیوب نیوٹرینو آبزرویٹری کے ذریعے کی جانے والی اس تحقیق سے کائنات کے ان پہلوؤں کو سمجھنے میں مدد مل سکتی ہے جو تاحال سائنسدانوں کے لیے پوشیدہ ہیں۔
اس سے قبل طب کے نوبیل انعام کا اعلان کیا گیا تھا، جو جرمنی سے تعلق رکھنے والے دو اور امریکا کے ایک سائنسدان کو مشترکہ طور پر دیا گیا۔ تینوں سائنسدانوں نے نیورولوجی کے شعبے میں نمایاں خدمات انجام دی ہیں۔
نوبیل انعامات کے شیڈول کے مطابق کیمسٹری کے انعام کا اعلان 7 اکتوبر، ادب کے انعام کا 8 اکتوبر اور امن کے نوبیل انعام کا اعلان 9 اکتوبر کو کیا جائے گا، جبکہ معیشت کے نوبیل انعام کا اعلان 12 اکتوبر کو متوقع ہے۔
نوبیل انعامات میں فزکس، کیمسٹری، طب، ادب اور امن سمیت مختلف شعبوں میں نمایاں خدمات انجام دینے والی شخصیات کو اعزاز دیا جاتا ہے۔ ان انعامات کا بنیادی مقصد ایسے افراد کی خدمات کا اعتراف کرنا ہے جنہوں نے انسانیت کے لیے نمایاں فائدہ پہنچایا ہو۔
نوبیل انعامات کا سلسلہ سویڈش کاروباری شخصیت الفریڈ نوبیل کی وصیت کے تحت شروع ہوا۔ الفریڈ نوبیل نے ڈائنامائٹ ایجاد کیا تھا اور اپنی بڑی دولت ان انعامات کے لیے قائم کیے گئے فنڈ کے لیے مختص کردی تھی۔ پہلی مرتبہ نوبیل انعامات 1901 میں دیے گئے تھے۔
امن کا نوبیل انعام بالخصوص ایسے فرد یا ادارے کو دیا جاتا ہے جس نے ممالک کے درمیان تعاون اور دوستی کے فروغ، مسلح افواج میں کمی یا خاتمے اور عالمی امن کے قیام کے لیے نمایاں کردار ادا کیا ہو۔