مولانا فضل الرحمان کی ثالثی کیلئے 5 شرائط، حکومت اور پی ٹی آئی سے اہم مطالبہ
حکومت اور پاکستان تحریک انصاف کے درمیان مذاکراتی عمل میں پیدا ہونے والے تعطل کو ختم کرنے کے لیے مولانا فضل الرحمان سے ثالثی کا کردار ادا کرنے کی درخواست کی گئی ہے، تاہم سربراہ جمعیت علمائے اسلام (ف) نے اس حوالے سے دونوں فریقین کے سامنے پانچ شرائط رکھ دی ہیں۔
ذرائع کے مطابق حکومت اور اپوزیشن کی جانب سے مولانا فضل الرحمان سے مذاکرات میں کردار ادا کرنے کی درخواست پر انہوں نے واضح کیا ہے کہ ثالثی کا فیصلہ کرنے سے قبل وہ یہ جائزہ لیں گے کہ دونوں فریق مسئلے کے حل کے لیے کس حد تک سنجیدہ اور مخلص ہیں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ مولانا فضل الرحمان فریقین کی جانب سے دیے جانے والے جوابات اور ان کے مؤقف کا جائزہ لینے کے بعد فیصلہ کریں گے کہ انہیں ثالثی کا کردار ادا کرنا چاہیے یا نہیں۔
مولانا فضل الرحمان نے فریقین کو اپنی شرائط سے آگاہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر حکومت اور اپوزیشن بنیادی معاملات پر کسی حد تک اتفاق رائے پیدا کرلیں تو وہ مذاکراتی عمل میں اپنا کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہوں گے۔
انہوں نے کہا کہ سنجیدہ اور مخلصانہ کوششوں کے ذریعے اب بھی مذاکرات کا راستہ نکالا جاسکتا ہے۔ ان کے مطابق اگر دونوں فریق ایک دوسرے کے مؤقف کو تسلیم کرنے کی کوشش کریں تو اختلافات کے درمیان درمیانی راستہ تلاش کیا جاسکتا ہے۔
ذرائع کے مطابق مولانا فضل الرحمان نے خبردار کیا کہ اگر مذاکراتی ڈیڈلاک برقرار رہا اور لانگ مارچ کو روکنے کے لیے طاقت کا استعمال کیا گیا تو صورتحال مزید پیچیدہ ہوسکتی ہے اور اس سے کسی مثبت نتیجے تک پہنچنا مشکل ہوجائے گا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ مولانا فضل الرحمان کی جانب سے ثالثی کے لیے گرین سگنل ملنے کی صورت میں وزیراعظم شہباز شریف اور سربراہ جے یو آئی (ف) کے درمیان ملاقات کا بھی امکان ہے، جس میں موجودہ سیاسی صورتحال اور مذاکراتی عمل کو آگے بڑھانے کے امکانات پر بات چیت ہوسکتی ہے۔