بلاول بھٹو کا وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا پر تنقید، گورنر راج سے گریز کی خواہش
پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ ان کی جماعت ملک میں ایمرجنسی یا گورنر راج کے نفاذ کی خواہش نہیں رکھتی، تاہم ان کے بقول وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کا طرزِ عمل ایسے حالات پیدا کر رہا ہے جن میں اس قسم کے اقدامات کی نوبت آسکتی ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا آخر گورنر راج کیوں چاہتے ہیں، جبکہ ان کے مطابق پاکستان کو افغانستان کی جانب سے جنگی نوعیت کی صورتحال کا بھی سامنا ہے۔
بلدیہ ٹاؤن کراچی میں اسپورٹس کمپلیکس کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے بلاول بھٹو نے کہا کہ شہر میں نوجوانوں کے لیے کھیلوں کی سہولتیں فراہم کرنا پیپلز پارٹی کی مثبت سیاست کا حصہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس سے قبل ٹی پی ون پانی کے منصوبے اور تھرپارکر میں تھرکول بلاک ٹو کے تیسرے حصے کا افتتاح کیا گیا تھا، جبکہ اب ضلع کیماڑی میں اسپورٹس کمپلیکس نوجوانوں کے لیے ایک نئی سہولت ہے۔
بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ وہ اس منصوبے کی تکمیل پر خوش ہیں اور چاہتے ہیں کہ نوجوانوں کو کھیلوں سمیت مثبت سرگرمیوں کے زیادہ مواقع ملیں۔ ان کے مطابق بلدیاتی نظام نے کراچی کے نوجوانوں کے لیے اسپورٹس کمپلیکس جیسے منصوبوں کی راہ ہموار کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بعض سیاسی قوتیں نوجوانوں کو جرائم کی طرف دھکیلنا چاہتی ہیں، جبکہ پیپلز پارٹی انہیں ایسی سرگرمیوں سے دور رکھنا چاہتی ہے۔
پیپلز پارٹی کے چیئرمین نے کہا کہ کراچی میں ان کی جماعت نفرت اور تقسیم کے بجائے مثبت سیاسی طرزِ عمل کو فروغ دینا چاہتی ہے۔ ان کے بقول خیبرپختونخوا میں سیاسی ماحول اس وقت سب کے سامنے ہے، جہاں ایک جماعت نفرت کی سیاست کر رہی ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ تقریباً ایک ہفتہ قبل صوبے میں ایمرجنسی جیسی صورتحال پیدا ہوگئی تھی، تاہم گورنر راج ایک آئینی اور قانونی راستہ ہے جسے آخری چارہ کار کے طور پر ہی اختیار کیا جانا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ سیاسی معاہدے اور مذاکرات آگے بڑھ رہے تھے، لیکن ایک صوبے کے وزیراعلیٰ نے بات چیت کے بجائے منفی سیاست کو ترجیح دی۔ بلاول بھٹو کے مطابق انتہاپسندانہ سیاست کا سب سے زیادہ نقصان تحریک انصاف کو پہنچ رہا ہے، کیونکہ اس طرزِ سیاست سے اس کے حامی بھی مایوس ہوتے ہیں۔ انہوں نے پی ٹی آئی پر زور دیا کہ وہ انتہاپسندی سے گریز کرتے ہوئے سیاسی عمل میں مؤثر کردار ادا کرے۔
بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ کراچی کی موجودہ سیاست میں پیپلز پارٹی اور تحریک انصاف نمایاں سیاسی قوتیں ہیں، تاہم ان کے بقول پی ٹی آئی کی دھرنا سیاست نے اس کے کارکنوں کو مایوس کیا ہے۔ انہوں نے ماضی کی مثالیں دیتے ہوئے کہا کہ 1988 اور 1993 کے انتخابات کے بعد بھی پیپلز پارٹی کو حکومت بنانے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا تھا۔
انہوں نے انتخابی اصلاحات پر بات کرتے ہوئے کہا کہ کراچی میں الیکٹورل ریفارمز کمیٹی تشکیل دی جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ تحریک انصاف انتخابات میں دھاندلی کے خلاف سب سے زیادہ آواز اٹھاتی ہے، اس لیے اسے انتخابی اصلاحات کے عمل میں بھی شریک ہونا چاہیے تاکہ آئندہ انتخابات میں بے ضابطگیوں کی روک تھام ممکن ہو۔ انہوں نے پی ٹی آئی قیادت اور وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سے انتہاپسندی کی سیاست ترک کرنے کا مطالبہ کیا۔
پیپلز پارٹی کے چیئرمین نے کہا کہ جیل میں ہونا اس بات کی ضمانت نہیں کہ کوئی شخص ہمیشہ قید میں رہے گا۔ انہوں نے صدر مملکت آصف علی زرداری کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے اپنی زندگی کے 14 سال جیل میں گزارے۔ بلاول بھٹو کے مطابق اگر تحریک انصاف نے انتہاپسندانہ سیاست جاری رکھی تو بانی پی ٹی آئی بھی طویل قید کے حوالے سے آصف زرداری کا ریکارڈ توڑ سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کو سیاسی مقاصد حاصل کرنے کے لیے سیاسی جدوجہد کا راستہ اختیار کرنا ہوگا۔
مذاکرات کے حوالے سے بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ بات چیت پیپلز پارٹی کی سیاسی سوچ کا بنیادی حصہ ہے اور مسائل کے حل کے لیے اتفاق رائے پیدا کرنا ضروری ہے۔ انہوں نے مولانا فضل الرحمان کے کردار کا خیرمقدم کرتے ہوئے امید ظاہر کی کہ ان کی کوششیں کامیاب ہوں گی۔ ان کا کہنا تھا کہ سیاسی جماعتوں کو مذاکرات کے ذریعے اختلافات دور کرنے کی کوشش جاری رکھنی چاہیے۔
گورنر راج اور ایمرجنسی کے معاملے پر بلاول بھٹو نے کہا کہ پیپلز پارٹی ایسا کوئی قدم اٹھانے میں جلدی نہیں چاہتی۔ ان کے مطابق اگر ان کی جماعت ایمرجنسی کے نفاذ کی خواہش رکھتی تو صدر مملکت کے پاس متعلقہ آئینی اختیار موجود تھا اور گورنر خیبرپختونخوا خط لکھ کر یہ عمل شروع کروا سکتے تھے۔ انہوں نے کہا کہ ایمرجنسی کے نفاذ میں رکاوٹ ڈالنے کے بجائے ان کی جانب سے متبادل تجویز دی گئی، جسے تسلیم کیا گیا۔
بلاول بھٹو نے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ مذاکرات کی کامیابی کا انحصار بھی ان کے طرزِ عمل پر ہے۔ انہوں نے کراچی کے ماضی کا حوالہ دیتے ہوئے الزام عائد کیا کہ شہر میں ایک دور میں تشدد اور قتل و غارت گری کا ماحول تھا، تاہم پیپلز پارٹی نے حالات بہتر بنانے اور امن بحال کرنے میں کردار ادا کیا، جس کے بعد ترقیاتی سرگرمیوں کو آگے بڑھانے کا موقع ملا۔
صوبوں کی تشکیل کے معاملے پر بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ جہاں عوام نئے صوبے کے قیام کے خواہش مند ہیں وہاں مزید تاخیر نہیں ہونی چاہیے، تاہم جن علاقوں کے لوگ اس کے حق میں نہیں، انہیں زبردستی قائل نہیں کیا جاسکتا۔ انہوں نے مصطفیٰ کمال، محسن نقوی اور تاجر برادری کو اس موضوع پر عوامی رابطہ مہم چلانے کی تجویز بھی دی۔
آخر میں بلاول بھٹو نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف عوام کو ریلیف فراہم کرنا چاہتے ہیں، لیکن اگر لوگوں کو مطلوبہ سہولتیں نہیں مل رہیں تو اس کی وجوہات کا جائزہ لینا ضروری ہے۔ انہوں نے ایک بار پھر واضح کیا کہ پیپلز پارٹی مذاکرات اور سیاسی مفاہمت کی حمایت کرتی ہے، جبکہ ایمرجنسی یا گورنر راج کا نفاذ ان کی جماعت کی ترجیح نہیں