خیبرپختونخوا میں دہشتگردی کے خاتمے کے لیے 5 اضلاع میں 6 ماہ کا منصوبہ بنانے پر زور

گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی کی زیر صدارت ایپکس کمیٹی کا اجلاس منعقد ہوا، جس میں صوبے کی امن و امان کی صورتحال، دہشتگردی کے تدارک، سیکیورٹی اداروں کی استعداد کار میں اضافے اور ترقیاتی امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔

اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں وفاقی اور صوبائی حکومتیں دہشتگردی کے خلاف مشترکہ حکمت عملی کے لیے ایک پیج پر ہیں۔ انہوں نے دہشتگردی کے خلاف جنگ میں سیکیورٹی اہلکاروں کی قربانیوں اور خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ اس جدوجہد میں سب سے زیادہ مشکل ذمہ داریاں سیکیورٹی فورسز نے نبھائی ہیں۔

محسن نقوی کا کہنا تھا کہ دہشتگردی کے خلاف مؤثر کارروائیوں کے لیے صوبائی حکومت کو آگے بڑھ کر قیادت کرنا ہوگی۔ ان کے مطابق یہ جنگ محض بیانات سے نہیں جیتی جا سکتی بلکہ اس کے لیے عملی اقدامات، مناسب وسائل اور مقامی حکومت کی مؤثر رہنمائی ضروری ہے۔ انہوں نے سابق صوبائی حکومت پر الزام لگایا کہ اس نے دہشتگردی کے خلاف جنگ میں مطلوبہ قیادت کا کردار ادا نہیں کیا۔

وفاقی وزیر داخلہ نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں موجود سیکیورٹی فورسز بہتر نتائج دے سکتی ہیں، تاہم اس کے لیے حکومتی قیادت اور تعاون اہم ہوگا۔ انہوں نے زور دیا کہ مشکلات کے باوجود تمام متعلقہ اداروں کو مل کر حالات کا مقابلہ کرنا چاہیے۔

ان کا کہنا تھا کہ وفاقی حکومت، صوبائی انتظامیہ، پولیس اور سیکیورٹی ادارے باہمی تعاون سے کام کریں گے۔ حکومتی عہدیداروں اور مشیروں کو گھبرانے کے بجائے متحد ہو کر چیلنجز کا سامنا کرنا چاہیے۔ محسن نقوی نے واضح کیا کہ حالات میں بہتری ایک دن میں ممکن نہیں، اس مقصد کے لیے مسلسل اور مربوط کوششیں کرنا ہوں گی۔

انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ وفاقی حکومت دہشتگردی کے خلاف کارروائیوں میں صوبائی حکومت کو مکمل تعاون فراہم کرے گی۔ ان کے مطابق مؤثر اقدامات کے ذریعے مثبت نتائج حاصل کیے جا سکتے ہیں۔

محسن نقوی نے دہشتگردی کے خاتمے کے لیے پانچ اضلاع پر مشتمل منصوبے کو دوبارہ فعال کرنے پر بھی زور دیا۔ انہوں نے بتایا کہ پہلے مرحلے میں چھ ماہ کے دوران ان پانچ اضلاع میں پولیس اور دیگر متعلقہ اداروں کی صلاحیتوں کو بہتر بنانے اور انہیں مضبوط کرنے پر توجہ دی جائے گی۔

وفاقی وزیر داخلہ کے مطابق خیبرپختونخوا کے عوام امن چاہتے ہیں اور دہشتگردی سے نجات کے خواہاں ہیں، اس لیے امن کا قیام تمام متعلقہ فریقوں کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ انہوں نے گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران عوامی ردعمل سے نمٹنے اور صورتحال کو قابو میں رکھنے کے لیے سیکیورٹی اداروں کی کوششوں کو بھی سراہا۔

انہوں نے مزید کہا کہ صوبے میں بدامنی پھیلانے کی کوششوں کا مؤثر مقابلہ کیا گیا ہے اور اس وقت صورتحال پُرامن ہے۔ امن برقرار رکھنے کے لیے اقدامات جاری رکھے جائیں گے۔

اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ صوبے میں امن کی بحالی کے معاملے پر وفاقی اور صوبائی حکومتیں مشترکہ مؤقف رکھتی ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ سیکیورٹی کے معاملے پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی استعداد کار بڑھانے کے لیے اقدامات کیے جائیں گے۔

فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ ریاست نے متعلقہ اداروں پر اعتماد کیا ہے، لہٰذا انہیں اپنی کارکردگی سے مثبت تبدیلی لانا ہوگی۔ ان کے مطابق سیکیورٹی اداروں کے ساتھ مکمل تعاون جاری رکھا جائے گا، جبکہ حکومتی عہدیداروں کو غیر ضروری معاملات میں الجھنے کے بجائے اپنی ذمہ داریوں پر توجہ دینی چاہیے۔ انہوں نے محدود وسائل کے باوجود صوبے میں ترقیاتی سرگرمیوں کے نتائج عوام کے سامنے لانے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔

گورنر نے ضم شدہ اضلاع کی صورتحال کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ وہاں کے عوام کو اب بھی آزادانہ نقل و حرکت اور سفر میں مشکلات کا سامنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان علاقوں کے لوگوں کو امن، خوشحالی اور بہتر ماحول فراہم کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے۔

فیصل کریم کنڈی کے مطابق خیبرپختونخوا قدرتی وسائل، تیل، گیس اور معدنیات سے مالا مال ہے۔ صوبے میں امن و امان کی صورتحال بہتر ہونے سے سیاحت کو فروغ ملے گا، سرمایہ کاری کے مواقع بڑھیں گے اور کاروباری سرگرمیوں میں اضافہ ہوگا۔