خیبرپختونخوا میں امن کا قیام اولین ترجیح ہے، پولیس اور سکیورٹی اداروں کی مدد کریں گے: فیصل کریم کنڈی
گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے کہا ہے کہ صوبے میں ایمرجنسی کے نفاذ کے بعد حکومت کی اولین توجہ امن و امان کی بحالی پر ہے۔ ان کے مطابق وفاقی حکومت کے فیصلے کے بعد گزشتہ روز ایمرجنسی نافذ کی گئی، جبکہ آج ایپکس کمیٹی کا اجلاس بھی منعقد ہوا، جس میں صوبے کی سکیورٹی صورتحال پر غور کیا گیا۔
پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے فیصل کریم کنڈی کا کہنا تھا کہ خیبرپختونخوا دہشت گردی کے چیلنج سے دوچار ہے، اس لیے امن قائم کرنا سب سے اہم معاملہ ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ صوبے کے عوام نے لانگ مارچ کو پذیرائی نہیں دی اور اس کے لیے لایا گیا کنٹینر بھی تاحال موجود ہے، تاہم اسے لے جانے والا کوئی نہیں۔ ان کے مطابق مسلسل دوسرے روز بھی صورتحال پُرامن رہی اور کوئی احتجاج نہیں ہوا، جبکہ گورنر ہاؤس بھی محفوظ ہے۔
گورنر نے یقین دہانی کرائی کہ پولیس اور کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) کو درکار وسائل فراہم کیے جائیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ پولیس اور سکیورٹی اداروں کے تحفظ پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ حکومت پولیس اہلکاروں کی تنخواہوں اور شہدا پیکج میں اضافے کے لیے بھی اقدامات کرے گی۔
فیصل کریم کنڈی نے پاکستان تحریک انصاف پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ان کے بقول پارٹی کی پالیسی کابل سے آتی تھی، جبکہ موجودہ حکومتی پالیسی وفاقی حکومت کی جانب سے طے کی جائے گی۔ انہوں نے بتایا کہ وفاقی وزیر داخلہ نے آج پولیس کے حوالے 10 اے پی سی گاڑیاں کی ہیں۔ ان کے مطابق حکومت کا مقصد صوبے میں امن قائم کرنے کے ساتھ خیبرپختونخوا کو ترقی کی راہ پر گامزن کرنا ہے۔
صوبے میں جاری دیگر مسائل پر بات کرتے ہوئے گورنر نے احتجاج کرنے والے ڈاکٹروں سے اپیل کی کہ وہ اپنا احتجاج ختم کریں، ان کے مسائل حل کیے جائیں گے۔ انہوں نے جامعات کو درپیش مشکلات کے حل کو بھی حکومت کی ترجیحات میں شامل قرار دیا۔
فیصل کریم کنڈی نے بتایا کہ وزیراعظم شہباز شریف جلد پشاور کا دورہ کریں گے، جہاں ان کے سامنے صوبے کے مسائل اٹھائے جائیں گے۔ انہوں نے واضح کیا کہ قانون ہاتھ میں لینے والوں کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔
گورنر کا مزید کہنا تھا کہ حکومت تین ماہ میں گزشتہ 13 برس کے مسائل اور خرابیوں کو ختم کرنے کی کوشش کرے گی۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ تحریک انصاف نے وفاقی حکومت کے سامنے صوبے کے مسائل مؤثر انداز میں پیش نہیں کیے۔ ان کے مطابق افغانستان کے ساتھ سرحد کی بندش کے معاملے پر بھی وفاق سے بات چیت جاری ہے۔