جنگل کا قانون کیا ہے؟ میاں عمر منظور کا معاشرے میں قانون اور انصاف پر فکر انگیز کالم
جنگل کا قانون
تحریر️: میاں عمر منظور
ہم نے جنگل کو بغیر سنے مجرم ٹھہرا دیا نہ گواہ بلایا نہ صفائی کا موقع دیا بس فیصلہ سنا دیا کہ یہاں تو جنگل کا قانون ہے سرکاری دفتر میں رشوت چلے تو جنگل کا قانون تھانے میں غریب پٹ جائے تو جنگل کا قانون بااثر آدمی قطار توڑ کر آگے نکل جائے تو بھی جنگل کا قانون جرم ہمارا اور سزا جنگل کو
اور اگر کل کو قدرت کی کوئی سچی اور انصاف پر مبنی عدالت لگ گئی اور کٹہرے میں فیصلہ ہونا ہوا تو سوچنے کی بات ہے کہ مجرم کون ٹھہرے گا جنگل یا ہم جن کے پاس موٹی موٹی کتابیں اور آئین موجود ہیں مگر ہم لاقانونیت کا شاہکار ہیں جبکہ جانوروں کے پاس نہ تو کوئی لکھی پڑھی کتاب ہے اور نہ ہی آئین کی کوئی شق لیکن اس کے باوجود وہاں کا ہر باشندہ اپنے غیر تحریری قوانین کی اتنی سخت پابندی کرتا ہے کہ عقل دنگ رہ جاتی ہے
اور اب ذرا یہ بھی سن لیجیے کہ یہ محاورہ آیا کہاں سے رڈیارڈ کپلنگ نے اٹھارہ سو چورانوے میں جنگل بک لکھی جس میں جنگل کا قانون ایک باقاعدہ ضابطہ تھا بھوک کے بغیر شکار نہ کرو کمزور کا خیال رکھو غول کی حفاظت کرو خشک سالی میں پانی کے گھاٹ پر صلح ہو جاتی تھی شیر بھی پیتا تھا اور ہرن بھی جنگل میں قحط پڑے تو سب مل کر بھوک سہتے ہیں ہمارے ہاں قحط پڑے تو ذخیرہ اندوزوں کی لاٹری نکل آتی ہے
اب سائنس کی طرف آئیے دنیا ایک زمانے تک الفا بھیڑیے کی کہانی سنتی رہی کہ غول میں ایک طاقتور بھیڑیا سب کو دبا کر رکھتا ہے مگر یہ تحقیق قید میں رکھے بھیڑیوں پر ہوئی تھی جہاں انسان بھی ایک دوسرے کے گلے پڑ جاتے ہیں پھر ڈیوڈ میک نے جنگلی بھیڑیوں کے ساتھ برسوں گزارے اور اپنی ہی بات واپس لے لی اس نے بتایا کہ غول دراصل ایک خاندان ہوتا ہے جہاں ماں باپ رہنمائی کرتے ہیں اور بچے سیکھتے ہیں وہاں تخت کی جنگ نہیں ہوتی بھیڑیے نے اپنی غلطی مان لی مگر ہمارے ہاں غلطی ماننے والے کو کمزور سمجھا جاتا ہے
ویمپائر چمگادڑوں پر گیرالڈ ولکنسن نے انیس سو چوراسی میں تحقیق کی جس چمگادڑ کو رات بھر خوراک نہ ملے دوسری چمگادڑیں اپنے پیٹ سے خوراک نکال کر دیتی ہیں اور ہم بھوکے کو دیکھ کر راستہ بدل لیتے ہیں ہاتھیوں کا ریوڑ سب سے تجربہ کار مادہ کے پیچھے چلتا ہے قحط میں پانی کا راستہ اسی کی یادداشت سے ملتا ہے وہاں تجربہ قیادت ہے یہاں سفارش فرانس دی وال نے برسوں چمپانزیوں کو دیکھا وہ لڑائی کے بعد صلح کرتے ہیں اور کمزور کی مدد کرتے ہیں ہم لڑائی کے بعد مقدمے کی اگلی تاریخ لیتے ہیں
شیر کا حال سنیے پیٹ بھر جائے تو شکار کو دیکھتا بھی نہیں ہرن اسی کے سامنے چرتے رہتے ہیں اور وہ سایے میں سویا رہتا ہے جنگل میں ذخیرہ اندوزی نہیں ہوتی یہ کمال ہمارا ہے جنگل میں شیر کو بھی قطار میں لگ کر پانی پینا پڑتا ہے اور یہاں پانی کا ٹینکر بھی اسی کا ہے جس کا تعلق اوپر تک ہو
میرکیٹ نام کا جانور ٹیلے پر کھڑا ہو کر پہرہ دیتا ہے اور باقی بے فکر ہو کر خوراک ڈھونڈتے ہیں خطرہ آئے تو وہ آواز لگاتا ہے ہمارے ہاں پہرے دار خود سو جاتا ہے یا چور کا حصہ دار نکلتا ہے انٹارکٹکا کی سردی میں شہنشاہ پینگوئن ایک دوسرے سے جڑ کر کھڑے ہوتے ہیں اور باری باری اندر آتے ہیں تاکہ سردی سب میں برابر بٹے نہ کوئی وی آئی پی ہے نہ استثنا ڈولفن زخمی ساتھی کو سہارا دے کر پانی کی سطح پر لاتی ہے تاکہ وہ سانس لے سکے ہم حادثے کے زخمی کی ویڈیو بناتے ہیں ہاتھی مرے ہوئے ساتھی کی ہڈیوں کے پاس خاموش کھڑے رہتے ہیں ہم تعزیت بھی واٹس ایپ پر کرتے ہیں چیونٹیاں اور شہد کی مکھیاں کام بانٹ لیتی ہیں نہ کوئی مزدور سفارش پر رکھا جاتا ہے نہ ٹھیکہ اپنے بندے کو ملتا ہے
انیس سو پچانوے میں امریکہ کے یلو اسٹون پارک میں بھیڑیے چھوڑے گئے تو پورا ماحولیاتی نظام بدل گیا درخت لوٹ آئے اور پرندے بھی ایک شکاری سے جنگل سنبھل گیا ہم نے کتنے شکاری بدل لیے مگر نظام وہیں کا وہیں کھڑا ہے
اب سوال یہ ہے کہ مغالطہ کہاں سے پیدا ہوا ڈارون نے بقائے اصلح کی بات کی تو لوگوں نے اسے جس کی لاٹھی اس کی بھینس سمجھ لیا حالانکہ ڈارون خود لکھ چکا تھا کہ ہمدردی اور سماجی جبلتیں جانوروں میں بھی ہیں روسی مفکر پیوتر کروپوٹکن نے انیس سو دو میں میوچوئل ایڈ لکھی اور بتایا کہ فطرت میں مقابلے کے ساتھ تعاون بھی بنیادی ہے مگر محاورہ پھیل چکا تھا انگریزی کے راستے وہی بگڑا مطلب اردو میں آیا اور ہم نے اسے اپنے اعمال پر پردہ ڈالنے کے لیے سنبھال لیا
حقیقت یہ ہے کہ جنگل میں کوئی شیر الگ قانون نہیں بناتا اور کوئی ہرن نظریہ ضرورت نہیں پڑھتا جنگل میں قانون ٹوٹے تو سزا فوراً ملتی ہے انسان کے پاس آئین بھی ہے عدالتیں بھی اور لاقانونیت بھی فرق بس اتنا ہے کہ جنگل میں قانون توڑنے والا شرمندہ ہو یا نہ ہو پکڑا ضرور جاتا ہے
اگلی بار کوئی آپ سے کہے کہ یہاں تو جنگل کا قانون ہے تو مسکرا کر جواب دیجیے گا کہ کاش جنگل میں تو کم از کم قانون چلتا ہے ہمارے ہاں تو وہ بھی نہیں